کراچی: کراچی کی ایک عدالت نے جمعرات کو مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گزری تھانے میں درج تین منشیات سے متعلق مقدمات میں بری کردیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ (ساؤتھ) نے ملزمہ کی جانب سے دائر بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے تینوں مقدمات میں انہیں بری کردیا۔
دفاعی وکیل کے مطابق انمول کے خلاف یہ مقدمات 2020، 2021 اور 2022 میں درج کیے گئے تھے، جبکہ تینوں مقدمات میں انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دونوں شریک ملزمان علی اور فہمیدہ کو پہلے ہی 2024 میں بری کیا جا چکا ہے۔
دفاع کے مطابق انمول کو شریک ملزمان کے مبینہ بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ شریک ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، اس لیے استغاثہ انمول کے خلاف جرم ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف کافی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے بعد انمول عرف پنکی کو تینوں مقدمات میں بری کردیا گیا۔
یہ بریت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک دوسرے مقدمے میں کراچی کی عدالت نے انمول عرف پنکی کے خلاف پولیس کی چالان رپورٹ منظور کرتے ہوئے قتل کی دفعہ ختم کرکے اسے غفلت کے باعث موت واقع ہونے کے الزام میں تبدیل کردیا تھا۔ یہ مقدمہ ایک نامعلوم شخص کی منشیات کے باعث ہلاکت سے متعلق ہے۔
تفتیشی افسر نے جوڈیشل مجسٹریٹ (ساؤتھ) کے سامنے حتمی چالان جمع کرایا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا الزام ختم کرکے دفعہ 322، یعنی قتل بالسبب، شامل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق جامعہ کراچی کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ شخص کی موت منشیات کے نشے کے باعث ہوئی، جس کے بعد قتل کی دفعہ ختم کی گئی۔
یہ مقدمہ ابتدا میں بغدادی پولیس نے قتل کے الزام میں درج کیا تھا، جب ایک نامعلوم شخص کی لاش فٹ پاتھ سے ملی۔ پولیس کے مطابق متوفی کی جیب سے انمول عرف پنکی کے نام والا ایک چھوٹا ڈبہ بھی برآمد ہوا تھا، جس کے بعد لاش ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس نے انمول کو، جسے حکام مبینہ طور پر منشیات کی ایک اہم سپلائر قرار دیتے ہیں، مئی 2026 میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران گرفتار کیا تھا۔
