ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی ترجمان 27 سالہ کیرولین لیویٹ کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نامزد کر دیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی لیویٹ امریکی تاریخ کی کم عمر ترین پریس سیکریٹری بن گئی ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ انتخاب ان کی انتظامیہ کی نئی ترجیحات کا عکاس ہے۔ لیویٹ کا شمار ٹرمپ کے قریبی اور وفادار ساتھیوں میں ہوتا ہے، جنہوں نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران میڈیا کے ساتھ جارحانہ اور بے باک انداز اپنا کر قیادت کو متاثر کیا۔
لیویٹ کا پس منظر روایتی پریس سیکریٹریز سے مختلف ہے۔ وہ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں اسسٹنٹ پریس سیکریٹری رہ چکی ہیں، تاہم اب وہ وائٹ ہاؤس کے پوڈیم پر ایک ایسے وقت میں کھڑی ہوں گی جب میڈیا کا منظرنامہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ ٹرمپ کی ٹیم کا ماننا ہے کہ لیویٹ کی میڈیا کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت، روایتی بریفنگ روم کے بجائے سوشل میڈیا اور پوڈ کاسٹ کے ذریعے عوام تک براہِ راست پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
کچھ حلقوں کی جانب سے ان کے تجربے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں پالیسی کی باریکیوں سے زیادہ میڈیا کے محاذ پر ٹرمپ کے بیانیے کا دفاع کرنے والی شخصیت کی ضرورت تھی۔ 2022 میں نیو ہیمپشائر سے کانگریس کا انتخاب لڑنے والی لیویٹ، ٹرمپ کے ‘امریکہ فرسٹ’ ایجنڈے کو جارحانہ انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔
ان کی تقرری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ میڈیا کے ساتھ تعلقات میں محتاط رہنے کے بجائے ٹکراؤ کی پالیسی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیویٹ کا پہلا امتحان جنوری میں اقتدار سنبھالتے ہی شروع ہوگا، جب انہیں کابینہ کے متنازع فیصلوں اور ٹرمپ کی پالیسیوں پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔
لیویٹ اب ایک ایسے وائٹ ہاؤس کی ترجمانی کریں گی جہاں خبروں کی ترسیل کے روایتی طریقے تیزی سے اپنی اہمیت کھو رہے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر توجہ مرکوز ہے۔ یہ تقرری محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ ٹرمپ کی جانب سے اپنی میڈیا حکمت عملی کو نئی نسل اور نئے میڈیا کے مطابق ڈھالنے کی ایک کوشش ہے۔
