کوئٹہ — کوئٹہ کے سینڈیمین صوبائی ہسپتال (سول ہسپتال) میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کی لرزہ خیز واردات میں ملوث مرکزی ملزم ہفتے کے روز پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت 26 سالہ ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی ہے جو اسی ہسپتال میں لفٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ہسپتال کے اندر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ماہنور ناصر پر تیزاب حملے کی سنگین واردات میں مطلوب تھا۔
حکام کے مطابق، خفیہ اطلاعات ملنے پر پولیس نے ملزم کو بس اسٹاپ کے قریب سے گرفتار کرنے کی کوشش کی، تاہم ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی اور فائرنگ کے تبادلے میں ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
اس سے قبل، سول ہسپتال کے احاطے میں ڈاکٹر ماہنور ناصر پر تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کی کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) فوٹیج میں ملزم کو حملے سے قبل وارڈ کی طرف جاتے اور پھر واردات کے بعد فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں یہ دردناک منظر بھی سامنے آیا کہ متاثرہ خاتون ڈاکٹر نے ہمت کر کے کچھ دور تک ملزم کا پیچھا کرنے کی کوشش کی لیکن وہ شدید تکلیف کے باعث وارڈ کے باہر ہی بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد طبی برادری اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور ملزم کی فوری گرفتاری اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔
حملے کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے متاثرہ ڈاکٹر کے خاندان سے رابطہ کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کے علاج کے تمام اخراجات ریاست برداشت کرے گی۔ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا کہ زخمی ڈاکٹر کو متبادل اور جدید ترین علاج کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور مکمل صحت یابی تک حکومت ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
