لاس اینجلس — آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو سپر ہٹ سیریز ‘اسٹرینجر تھنگز’ کے خاتمے کے بعد اپنی اگلی بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ ‘دی بروز’ نامی اس نئی 8 قسطوں پر مشتمل سائنس فکشن سیریز نے ریلیز کے محض 10 دنوں کے اندر عالمی سطح پر 1 کروڑ 50 لاکھ ویوز اور 5 کروڑ 94 لاکھ گھنٹوں کا واچ ٹائم حاصل کر کے نیٹ فلکس کی ٹاپ 10 انگریزی سیریز کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
21 مئی 2026 کو ریلیز ہونے والی اس سیریز کو میڈیا میں "بزرگوں کی اسٹرینجر تھنگز” کہا جا رہا ہے۔ یہ سیریز دنیا کے 25 ممالک میں نمبر ون پوزیشن پر پہنچ گئی ہے۔ اس کہانی کا تانا بانا نیو میکسیکو کے صحرا کے کنارے واقع ایک پرتعیش ریٹائرمنٹ کمیونٹی (بزرگوں کی رہائشی بستی) کے گرد گھومتا ہے۔ ان بزرگوں کی پرسکون زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب وہاں کچھ ماورائی اور خلائی قوتیں حملہ کر دیتی ہیں جو انسانوں سے وہ چیز چھیننا شروع کر دیتی ہیں جس کی ان بزرگوں کے پاس پہلے ہی کمی ہے، یعنی "وقت”۔
اس سیریز کی کاسٹ میں ہالی ووڈ کے مایہ ناز اداکار شامل ہیں، جن میں الفریڈ مولینا (جو ایک غمزدہ رنڈوے کا کردار ادا کر رہے ہیں)، جینا ڈیوس، الفری ووڈارڈ، ڈینس او ہیئر، کلارک پیٹرز اور بل پل مین اہم ہیں۔ نقادوں نے تمام اداکاروں کی لاجواب اداکاری اور آپسی تال میل کی بے حد تعریف کی ہے۔
اس سیریز میں مضافاتی علاقوں کے اسرار اور ماورائی خطرات کو جس خوبصورت انداز میں دکھایا گیا ہے، اس کی وجہ سے اسے مشہور فلمساز اسٹیون اسپلبرگ کے انداز سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ہارر کہانیوں کے بے تاج بادشاہ اسٹیفن کنگ نے بھی سوشل میڈیا پر اس سیریز کی کھل کر تعریف کی ہے اور اسے ایک بہترین شاہکار قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریٹنگز کی معروف ویب سائٹ ‘روٹن ٹومیٹوز’ پر اس سیریز کو 96 سے 97 فیصد تک کی شاندار ریٹنگ ملی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سیریز کا آغاز سست تھا اور اپنے پہلے ویک اینڈ پر یہ دوسرے نمبر پر تھی، لیکن جاندار کہانی کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور دوسرے ہفتے میں اس نے مزید 95 لاکھ ویوز حاصل کر کے پہلی پوزیشن پر قبضہ کر لیا۔
سیریز کا پہلا سیزن ایک سسپنس پر ختم ہوا ہے، اور کہانی لکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آگے کی کہانی بھی تیار ہے اور وہ اس کا اگلا سیزن بنانے کے لیے پرامید ہیں۔ اگرچہ یہ سیریز ابھی ‘اسٹرینجر تھنگز’ کے چوتھے سیزن کے 14 کروڑ ویوز کا ریکارڈ تو نہیں توڑ سکی، لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نیٹ فلکس اب بھی بہترین اور اچھوتی کہانیاں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اچھی کہانی کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
