لاہور ہائیکورٹ نے آٹھ سال سے زیر التوا عوامی مفاد کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی حکام کو ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکولز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم کا یہ فیصلہ ایک طویل قانونی جنگ کا اختتام ہے، جس کا مقصد شہر کی بگڑتی ہوئی فضا اور صنعتی آلودگی کے معاملے پر حکومتی اداروں کو جوابدہ ٹھہرانا تھا۔
تقریباً ایک دہائی تک یہ کیس عدالتی کارروائیوں میں الجھا رہا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ (EPA) صرف کاغذوں تک محدود ہے، جو نہ تو فیکٹریوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی نگرانی کرتا ہے اور نہ ہی شہری مراکز میں تیزی سے ختم ہوتی ہریالی کو روکنے میں کامیاب ہے۔ تازہ ترین عدالتی فیصلہ حکومتی اداروں کے اس روایتی انداز کو مسترد کرتا ہے جو سموگ اور زہریلی ہوا کے مسئلے پر اختیار کیا جاتا رہا ہے۔
یہ حکم حکومت کو دفتری کارروائیوں سے آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ عدالت نے صنعتی زونز میں ریئل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم کی فوری تنصیب کا حکم دیا ہے، جس پر ای پی اے ہمیشہ بجٹ کی کمی کا بہانہ بنا کر ٹال مٹول کرتا رہا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جب عوامی صحت کا معاملہ ہو تو مالی مشکلات کے عذر اب قبول نہیں کیے جائیں گے۔
کیس سے وابستہ ماحولیاتی وکلاء اس فیصلے کو عدالتی نگرانی کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اکثر ماحولیاتی ضوابط کو صنعتی پیداوار میں رکاوٹ سمجھتی ہے، لیکن عدالتی حکم نے اب ثبوت کا بوجھ فیکٹری مالکان پر ڈال دیا ہے۔ اب صنعتوں کو اپنے اخراج کے معیار کو ثابت کرنا ہوگا، بصورت دیگر انہیں فوری بندش کا سامنا کرنا پڑے گا—ایسا معیار جس کا اطلاق ماضی میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا۔
یہ فیصلہ ماحولیاتی اعداد و شمار میں شفافیت کے فقدان کو بھی دور کرتا ہے۔ اخراج کی رپورٹس کو عوامی کرنے کا حکم دے کر عدالت نے ای پی اے سے وہ اختیار چھین لیا ہے جس کے ذریعے وہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کو عوامی تنقید سے بچاتا تھا۔
حکومتی کارکردگی پر نظر رکھنے والے ماہرین تاحال نفاذ کے معاملے پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں عدالتی احکامات کو سرکاری سرخ فیتے کے نیچے دبانے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ عدالتی ہدایت عدالتی کمرے سے نکل کر فیکٹریوں تک پہنچتی ہے یا نہیں، جس کا انحصار انتظامیہ کی طاقتور صنعتی لابیوں کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت پر ہے۔
فی الحال قانونی جنگ ختم ہو چکی ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ عدالت نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ خود عملدرآمد کی نگرانی کرتی رہے گی، جس سے حکومتی اداروں کو تب تک عدالتی دباؤ میں رہنا ہوگا جب تک ماحولیاتی معیارات کا نفاذ ایک معمول نہیں بن جاتا۔
