جاپان کے جزیرہ نما نوٹو میں ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور ہزاروں شہری سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ علاقے میں اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ کی جانے والی بارش ہے، جس نے جنوری میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کو مزید شدید نقصان پہنچایا ہے۔
واجیما اور سوزو کے شہر، جو ابھی تک نئے سال کے زلزلے کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، اس قدرتی آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیموں نے واجیما میں ایک تعمیراتی مقام کے قریب سے چھ لاشیں برآمد کی ہیں، جبکہ دو دیگر ہلاکتوں کی تصدیق نواحی علاقوں میں ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں کئی دیہاتوں سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مرکزی سڑکیں بند ہونے سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں آ رہی ہیں۔
متاثرین کے لیے یہ صورتحال کسی المیے سے کم نہیں۔ جنوری کے 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد ہزاروں لوگ عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہے تھے، لیکن اب سیلابی پانی ان پناہ گاہوں میں داخل ہو چکا ہے، جس سے لوگوں کا بچا کھچا سامان بھی ضائع ہو گیا ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ابھی پچھلی تباہی کا ملبہ بھی پوری طرح صاف نہیں کر سکے تھے کہ پانی نے ہماری رہی سہی امیدیں بھی بہا دیں۔”
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے اشیکاوا پریفیکچر کے لیے "ایمرجنسی وارننگ” جاری کر رکھی ہے، جہاں بارش کی شدت 120 ملی میٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی تھی۔ اگرچہ سہ پہر تک بارش کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن زمین پانی سے مکمل سیر ہو چکی ہے، جس سے مزید تودے گرنے کا خدشہ برقرار ہے۔ اس وقت تقریباً 6 ہزار گھر بجلی سے محروم ہیں اور سیلف ڈیفنس فورسز کے اہلکار ملبہ ہٹانے اور بجلی کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔
جاپانی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے ہیں، تاہم جزیرہ نما نوٹو کا جغرافیہ اور زلزلے سے متاثرہ تنگ سڑکیں ریسکیو ٹیموں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم فومیو کیشیدا نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم حکومت کو اس خطے میں بحالی کے سست عمل پر تنقید کا سامنا بھی ہے۔
بارش تھم گئی ہے، لیکن بحران ابھی ٹلا نہیں ہے۔ بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیش نظر مقامی آبادی کا مستقبل ایک بار پھر غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ لاپتہ افراد کی بازیابی پر مرکوز ہے، جبکہ رات کے بڑھتے ہوئے سرد موسم نے امدادی ٹیموں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
