جنوبی یورپ ایک بار پھر شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ یونان، اٹلی اور بلقان کے خطوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، جس نے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے۔ یہ اس موسمِ گرما کا دوسرا بڑا ہیٹ ویو ہے، جس نے ان یورپی شہروں کو بے بس کر دیا ہے جن کا انفراسٹرکچر اس قدر شدید گرمی کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔
ایتھنز اور روم جیسے تاریخی شہروں میں گرمی صرف ایک موسم نہیں، بلکہ ایک بحران بن چکی ہے۔ یونان میں اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو براہِ راست دھوپ سے بچایا جا سکے۔ سیاحوں کے پسندیدہ مقام ‘ایکروپولس’ کے اوقاتِ کار محدود کر دیے گئے ہیں کیونکہ وہاں سیاحوں کے بے ہوش ہونے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
انسانی صحت پر اس کے اثرات واضح ہیں۔ ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جن میں زیادہ تر بزرگ اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدور شامل ہیں۔ اٹلی کی وزارتِ صحت نے متعدد بڑے شہروں میں ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ درجہ حرارت صحت مند افراد کے لیے بھی خطرناک ہے۔ بجلی کے نظام پر بھی شدید دباؤ ہے؛ ایئر کنڈیشنرز کے مسلسل استعمال سے گرڈ پر بوجھ بڑھ گیا ہے، اور حکام کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت بجلی کا نظام جواب دے سکتا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ جیٹ اسٹریم میں تبدیلی کے باعث بحیرہ روم کے اوپر ایک ہائی پریشر سسٹم جم گیا ہے، جو گرم ہواؤں کو باہر نہیں نکلنے دے رہا۔ یہ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں، بلکہ گزشتہ ایک دہائی سے جاری ایک خطرناک رجحان ہے۔ کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسے شدید گرمی کے واقعات کی تعدد اور شدت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔
اس صورتحال کے معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اٹلی کی ‘پو ویلی’ میں زرعی زمینوں میں نمی کی کمی کے باعث فصلیں جھلس رہی ہیں، جس سے زیتون اور اناج کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ سڑکوں پر تارکول پگھل رہا ہے اور ریلوے لائنوں کے ٹیڑھے ہونے کے خطرے کے پیشِ نظر ٹرینوں کی رفتار کم کر دی گئی ہے۔
مقامی انتظامیہ اب بھی ہنگامی اقدامات تک محدود ہے۔ روم کے ایک سول پروٹیکشن افسر نے اعتراف کیا کہ "ہمارا شہری منصوبہ بندی کا نظام بدلتے ہوئے موسم کی رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔” انہوں نے مزید بہتری کے لیے کسی واضح ٹائم لائن دینے سے گریز کیا اور کہا کہ فی الحال تمام اقدامات صرف وقتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے فی الحال کسی بڑی ریلیف کی امید نہیں ہے۔ چند روز میں درجہ حرارت میں معمولی کمی کا امکان ضرور ہے، لیکن راتیں بدستور حبس زدہ رہیں گی۔ یہ گرمی نہ صرف زمین کو خشک کر رہی ہے، بلکہ ان علاقوں کے رہائشیوں سے سکون اور بحالی کا وہ آخری موقع بھی چھین رہی ہے جو رات کے وقت ٹھنڈک سے ملتا تھا۔
