ڈنمارک میں گرے وولف (سرمئی بھیڑیا) 19ویں صدی کے اوائل میں شکار اور قدرتی مسکن کے خاتمے کے باعث ناپید ہو گیا تھا۔ سن 2012 میں جب جرمنی کی سرحد سے ایک تنہا بھیڑیا ڈنمارک میں داخل ہوا تو اسے ایک بڑی حیاتیاتی کامیابی قرار دیا گیا۔ تاہم، بارہ سال بعد یہ کامیابی ایک پیچیدہ سماجی اور سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے لیے بھیڑیے کی واپسی ایک متوازن ایکو سسٹم کی بحالی کی علامت ہے۔ لیکن ڈنمارک کے علاقے جٹ لینڈ کے دیہی رہائشیوں کے لیے یہ ان کے مویشیوں اور ذاتی تحفظ کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے۔
معاملہ اس وقت سنگین ہوا جب ایک بھیڑیے نے انسانی بستیوں کے قریب آنا شروع کیا اور انسانی موجودگی سے خوفزدہ ہونا چھوڑ دیا۔ یہ محض ایک عام مشاہدہ نہیں تھا، بلکہ جانور اور انسان کے درمیان فاصلہ کم ہونے سے مقامی حکام کو اپنی "عدم مداخلت” کی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنی پڑی۔
ایک مقامی کسان جینز نیلسن کا کہنا ہے کہ، "اب لوگوں کو صرف اپنے بھیڑوں کے نقصان کی فکر نہیں ہے۔ انہیں اپنے بچوں کے گھر کے صحن میں کھیلنے پر بھی ڈر لگتا ہے۔ جب کوئی جنگلی جانور انسانوں کا قدرتی خوف کھو دے، تو حالات یکسر بدل جاتے ہیں۔”
ڈنمارک کی حکومت فی الحال یورپی یونین کے سخت تحفظِ ماحول کے قوانین کے تحت کام کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی ‘ہیبی ٹیٹس ڈائریکٹو’ کے مطابق، بھیڑیے کو مارنا آخری حربہ ہے، جس کی اجازت تبھی ملتی ہے جب دیگر تمام حفاظتی اقدامات ناکام ہو جائیں اور جانور انسانی زندگی کے لیے مسلسل خطرہ بن جائے۔
لیکن عوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ مقامی گروپس "بھیڑیوں سے پاک زونز” کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی گنجان آبادی اور چھوٹے جنگلات میں بھیڑیوں جیسے شکاری جانوروں کے ساتھ رہنا ناممکن ہے۔ دوسری جانب، وزارتِ ماحولیات نے مویشیوں کے تحفظ کے لیے باڑ لگانے کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا ہے، لیکن کسانوں کا شکوہ ہے کہ مارے گئے مویشیوں کے معاوضے کا عمل انتہائی سست اور بیوروکریٹک ہے۔
وائلڈ لائف ماہرین کا اس پر اپنا نقطہ نظر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھیڑیے ہرنوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جن کی تعداد میں حالیہ برسوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور وہ زرعی فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ماہرین کا استدلال ہے کہ بھیڑیوں کو ختم کرنے سے ایک مسئلہ حل ہو گا تو دوسرا پیدا ہو جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈنمارک اب یورپی تحفظِ ماحول کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے۔ اگر ایک ایسا ملک جہاں جنگلات کا رقبہ محدود ہے، وہ چند بھیڑیوں کو سنبھالنے میں ناکام رہتا ہے، تو پورے براعظم میں جنگلی حیات کی بحالی کے منصوبوں کا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔
فی الحال، بھیڑیا وہاں موجود ہے—ایک ایسا تحفظ شدہ جانور جو فطرت کی واپسی کی علامت تو ہے، لیکن مقامی باشندے اس کے ساتھ رہنے میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ حکومت بین الاقوامی قوانین اور عوامی احتجاج کے درمیان جس طرح توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس سے یہ واضح ہے کہ ڈنمارک میں بھیڑیے کا معاملہ اب محض ایک علمی بحث نہیں، بلکہ ایک قومی بحران بن چکا ہے۔
