گوجرانوالہ — ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال میں ادویات کی بڑے پیمانے پر چوری کا انکشاف ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے دو سینئر افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
یہ کارروائی صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کیے گئے ایک اچانک آڈٹ کے بعد عمل میں آئی۔ مریضوں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں کہ ہسپتال کی فارمیسی میں انتہائی ضروری ادویات غائب ہیں۔ تفتیشی ٹیم کو پتہ چلا کہ ہنگامی صورتحال میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس اور دل کے امراض کی مہنگی ادویات منظم طریقے سے چوری کی جا رہی تھیں، جنہیں مبینہ طور پر بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا رہا۔
ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل انجم نے معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال کے سٹور کیپر اور فارمیسی انچارج کو انکوائری مکمل ہونے تک ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان دونوں کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ صرف انوینٹری غائب ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس نے سینکڑوں مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔
یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال آنے والے مریضوں کو ڈاکٹروں کی طرف سے ادویات کے نسخے تھما کر باہر سے خریدنے کا کہا جاتا رہا۔ مہنگائی کے اس دور میں پریشان حال خاندانوں نے پہلے ہی سٹاف پر الزامات لگائے تھے کہ وہ جان بوجھ کر ادویات کی قلت پیدا کر رہے ہیں۔
آڈٹ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق فارمیسی کے ریکارڈ میں لاکھوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ڈیجیٹل لاگز میں ادویات کی فراہمی تو دکھائی گئی، مگر الماریاں خالی تھیں۔ حیران کن طور پر ہسپتال کے وہ سیکیورٹی کیمرے بھی اس عرصے کے دوران "غیر فعال” رہے، جن سے چوری کے ثبوت مل سکتے تھے۔
پولیس اب معطل کیے گئے ملازمین سے تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ اس نیٹ ورک میں ہسپتال کا اعلیٰ انتظامی عملہ شامل ہے یا باہر سے کوئی گروہ ملوث ہے۔
فی الحال ہسپتال کی فارمیسی کو پولیس نے سیل کر دیا ہے اور باقی ماندہ سٹاک کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کو وقتی طور پر قریبی مراکز صحت سے ادویات فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ زندگی بچانے والی مخصوص ادویات کی کمی نے ڈاکٹروں کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
