سمندری طوفان ’لالہ‘ اپنی شدت کھو چکا ہے اور اب یہ ایک ٹروپیکل طوفان کی شکل اختیار کر گیا ہے، تاہم ہوائی کے جزائر پر سیلابی خطرات بدستور موجود ہیں۔ طوفان کی ہوائیں 65 میل فی گھنٹہ تک گر چکی ہیں، لیکن مقامی حکام کے مطابق سب سے بڑا خطرہ اب بھی موسلا دھار بارشیں ہیں۔
نیشنل ویدر سروس نے منگل کی صبح تک کے لیے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کی وارننگ میں توسیع کر دی ہے۔ طوفان کا مرکزی حصہ شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے بیرونی دائرے میں موجود بادل پہاڑی علاقوں میں مسلسل برس رہے ہیں، جہاں زمین پہلے ہی پانی سے سیراب ہو چکی ہے۔
ایمرجنسی مینجمنٹ حکام کے مطابق شمالی کوہالا میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دو اہم سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہے اور تقریباً 12 ہزار صارفین اب بھی اندھیرے میں ہیں۔ گرتے ہوئے درخت اور سڑکوں پر جمع پانی امدادی ٹیموں کی رسائی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
ہوائی کاؤنٹی کے سول ڈیفنس ایڈمنسٹریٹر ٹالمج میگنو نے میڈیا کو بتایا کہ "ہوا کی رفتار کم ہو گئی ہے لیکن پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ ہم لوگوں کو سڑکوں پر نہ نکلنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ آپ کی گاڑی کشتی نہیں ہے اور یہ سیلابی ریلے کسی بھی وقت کسی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔”
ماہرینِ موسمیات کی توجہ طوفان کی سست رفتاری پر مرکوز ہے۔ ’لالہ‘ صرف 5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ایک ہی علاقے میں گھنٹوں تک مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ اس کیفیت کو موسمیاتی اصطلاح میں ’ٹریننگ ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے، جس نے ہیلو کے علاقوں میں پانی کی سطح کو ریکارڈ حد تک پہنچا دیا ہے۔
ریاستی حکام نے چار ہنگامی پناہ گاہیں کھول دی ہیں۔ منگل کی صبح تک کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ریسکیو ٹیمیں ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد کو نکالنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔
توقع ہے کہ بدھ کی رات تک یہ طوفان ایک ڈپریشن میں تبدیل ہو کر ختم ہو جائے گا۔ فی الحال انتظامیہ کی تمام تر کوششیں ان دریاؤں اور ندیوں پر مرکوز ہیں جن میں پانی کی سطح اب بھی خطرناک حد تک بلند ہے۔
