سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے گیس کے شدید بحران اور سسٹم میں پریشر کی کمی کے پیشِ نظر کراچی اور بلوچستان کے متعدد علاقوں کے لیے گیس کی فراہمی کا نیا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سردیوں میں طلب بڑھنے اور گیس کے ذخائر میں کمی کے باعث لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔
نئے شیڈول کے تحت کورنگی، سائٹ اور نارتھ کراچی کے صنعتی زونز سب سے زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں گیس کی فراہمی کو مخصوص اوقات تک محدود کر دیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام گیس کے مجموعی نیٹ ورک کو مکمل بیٹھ جانے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم صنعت کاروں نے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے ایک ترجمان نے کہا کہ "تین گھنٹے کی گیس سپلائی پر صنعتیں نہیں چل سکتیں۔ پریشر میں اتار چڑھاؤ ہماری مشینری کے لیے تباہ کن ہے، جس کے نتیجے میں کئی فیکٹریاں بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔”
صرف صنعتیں ہی نہیں، بلکہ کراچی کے رہائشی علاقے جیسے لیاری، ملیر اور کوئٹہ کے کئی حصوں میں بھی گیس کا پریشر صفر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ گھروں میں چولہے جلانا محال ہو گیا ہے اور شہری متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
ایس ایس جی سی کے ترجمان نے اس صورتحال کا ذمہ دار انفراسٹرکچر کی خستہ حالی اور ایل این جی کی درآمد میں تاخیر کو قرار دیا ہے۔ کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کے کمپریسرز کا استعمال ہرگز نہ کریں، کیونکہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ گیس لائنوں میں لیکج اور دھماکوں کا باعث بھی بن رہا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شیڈول اس وقت تک نافذ رہے گا جب تک سسٹم کا پریشر ایک ‘مستحکم سطح’ پر نہیں آ جاتا۔ تاہم، ایس ایس جی سی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ بحران کب تک ختم ہوگا، جس سے صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ محدود سپلائی عام شہریوں کے کچن تک پہنچ پائے گی، یا پھر انہیں گیس کے بغیر ہی سخت موسم کا سامنا کرنا پڑے گا۔
