کولوراڈو دریا سکڑ رہا ہے۔ گرینڈ کینین کی لہروں پر کشتی رانی کرنے والے ہزاروں سیاح اب محض موسم کی تبدیلی کی خبریں نہیں پڑھ رہے، بلکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر دریا کے خشک ہوتے کناروں اور خطرناک ہوتی چٹانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
امریکا کے جھیل پاول اور جھیل میڈ میں پانی کی سطح ریکارڈ نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال کے بعد وفاقی حکام نے گلین کینین ڈیم سے پانی کے اخراج میں بڑی کٹوتی کر دی ہے۔ اس کا نتیجہ نیچے بہنے والے دریا کی صورت میں نکلا ہے، جو اب پہلے سے کہیں زیادہ سست، گرم اور غیر متوقع راستوں پر چلنے پر مجبور ہے۔
رواں سیزن کے دوران کشتی رانی کروانے والے گائیڈز کا کہنا ہے کہ انہیں اب ان مقامات پر بھی محتاط رہنا پڑتا ہے جہاں پہلے کشتی بغیر کسی رکاوٹ کے گزر جاتی تھی۔ دریا کے بہاؤ میں کمی کے باعث اب پانی کے نیچے چھپی چٹانیں سطح کے قریب آ گئی ہیں، جو کشتیوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہیں۔ یہ اب محض ایک مہم جوئی نہیں، بلکہ ہر انچ پر گہری نظر رکھنے کا نام ہے۔
دو دہائیوں سے دریا پر گائیڈ کی خدمات انجام دینے والے مارکس تھورن کہتے ہیں، "ہمیں ہر صبح پانی کا مزاج بدلنا پڑتا ہے۔ صرف لہریں چھوٹی نہیں ہوئیں، بلکہ دریا کا راستہ بھی عجیب ہو گیا ہے۔ جن چٹانوں سے ہمیں خطرہ نہیں ہوتا تھا، اب وہ دریا کے عین وسط میں رکاوٹ بن کر کھڑی ہیں۔ پانچ سال پرانے نقشے اب کسی کام کے نہیں۔”
ماحولیاتی اثرات صرف کشتی رانی تک محدود نہیں ہیں۔ دریا کے بہاؤ میں کمی کا مطلب یہ بھی ہے کہ پانی اب قدرتی طور پر ریت اور مٹی کو آگے نہیں دھکیل پا رہا۔ کینین کے کناروں پر واقع وہ ریتلے ساحل، جہاں سیاح رات گزارتے ہیں، اپنی شکل بدل رہے ہیں۔ کہیں جھاڑیاں اگ رہی ہیں اور کہیں ساحل کٹاؤ کا شکار ہیں کیونکہ وہ اونچے بہاؤ والے سیلابی ریلے اب نہیں آتے جو ان ساحلوں کو دوبارہ تعمیر کرتے تھے۔
ماہرینِ موسمیات اسے بیس سالہ ‘میگا ڈراٹ’ (شدید خشک سالی) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، جسے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ حقیقت تلخ ہے: پہاڑوں سے پگھلنے والی برف اب دریا تک اس مقدار میں نہیں پہنچ رہی جتنی ضرورت ہے۔ چالیس ملین افراد کے لیے یہ دریا پینے کے پانی اور زراعت کا واحد ذریعہ ہے، لیکن کشتی رانی کرنے والوں کے لیے یہ مغربی امریکا کے مستقبل کا ایک الارم ہے۔
نیشنل پارک سروس نے کشتی رانی کے اوقات اور گروپوں کی تعداد کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ دریا پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ یہ محض انتظامی فیصلے نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ دریا اب اس شدت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا جو ایک دہائی قبل ممکن تھی۔
جب سیاح رات کو اپنی کشتیاں کنارے پر لگاتے ہیں، تو خاموشی پہلے سے زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔ لہروں کا شور مدھم پڑ رہا ہے، اور اس کی جگہ دریا کے جدوجہد کرنے کی آواز لے رہی ہے۔ کولوراڈو دریا اپنی کھوئی ہوئی طاقت واپس پا سکے گا یا نہیں، اس کا دارومدار اب برف باری کے بے یقینی موسموں اور پانی کے انتظام کی ان پالیسیوں پر ہے جو دن بہ دن ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
کینین تو اپنی جگہ قائم ہے، لیکن وہ دریا جو اس کی پہچان تھا، اب آہستہ آہستہ اپنا وجود کھو رہا ہے۔
