پاکستان نے امریکی ناظم الامور کو پیر کے روز دفتر خارجہ طلب کر کے کشمیر سے متعلق ایک امریکی سفارت کار کے حالیہ بیان پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
دفتر خارجہ کے حکام کے مطابق، امریکی سفارت کار کا آزاد کشمیر کا دورہ اور وہاں دیا گیا بیان پاکستان کی خودمختاری کے منافی اور سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ اسلام آباد نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے واشنگٹن پر واضح کیا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی حیثیت پر کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کیا جائے۔
دفتر خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے اپنا موقف دو ٹوک الفاظ میں پہنچا دیا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور ہم کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔”
پاکستان کے لیے کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ کسی بھی امریکی عہدیدار کی جانب سے اس علاقے کا دورہ یا وہاں دیا گیا بیان، جس میں زمینی حقائق کو نظر انداز کیا جائے، حکومتی اور عسکری حلقوں میں فوری ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ اسلام آباد کا ماننا ہے کہ ایسے بیانات سے بھارت کو اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواز فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے اس ملاقات کے بعد تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، واشنگٹن کا روایتی موقف یہی رہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل پاکستان اور بھارت کے مابین براہ راست مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔
یہ سفارتی تلخی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اپنی معاشی بحالی اور خطے میں توازن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت اس قسم کے واقعات کو اپنی داخلی خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھتی ہے اور اسی لیے امریکی ناظم الامور کی طلبی کو ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس واقعے سے پاک امریکہ تعلقات کے مجموعی ڈھانچے پر فوری اثر پڑنے کا امکان کم ہے، لیکن یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کشمیر پر پاکستان کا موقف کتنا حساس ہے۔ اسلام آباد کا پیغام واضح ہے: خطے کے دورے اور بیانات سفارتی سطح پر سیاسی وزن رکھتے ہیں، اور واشنگٹن کو ایسی حساس صورتحال میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
