اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کیا، جبکہ انہوں نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ صحت سے متعلق معاملات بنیادی طور پر طبی اور قانونی نوعیت کے ہوتے ہیں، انہیں سیاسی تنازع نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے، حتیٰ کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اس کی جماعتیں صحت کے معاملات کو سیاست سے الگ رکھنے کی بات کرتی رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات کا بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا اور بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے 18 اگست کے حکم میں سابق وزیراعظم کو طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کو پمز لے جایا گیا جہاں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ انتظامیہ نے آئین اور قانون کے مطابق عدالت کے حکم پر عمل کیا اور عدالتی ہدایات میں دی گئی تمام ضروریات پوری کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کی بہن اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں کیا گیا۔ وزیر اطلاعات نے ابتدائی طبی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اچھی قرار دی گئی ہے۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے عمران خان کا علاج ایک دن کے لیے بھی نہیں روکا اور اس معاملے میں ہونے والی پیش رفت سے عوام کو مسلسل آگاہ رکھا گیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر توہینِ عدالت کی درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنی نظرثانی درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ کیا اسی نوعیت کی طبی سہولیات ہر قیدی کو دستیاب ہیں۔
اس سے قبل پی ٹی آئی نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالتی حکم پر مبینہ عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔
عطا تارڑ نے شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور دیگر افراد کے اجتماع پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ وہاں کس نے جمع کیے۔ ان کے مطابق اس اجتماع سے سکیورٹی خطرات پیدا ہوئے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ اس معاملے کو سیاسی بیانات سے جوڑا نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے کسی بھی شخص کی صحت کے معاملے میں غیر مناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان کے طبی معاملے پر حکومت نے عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی کی اور پورے عمل کے دوران متعلقہ حقائق عوام کے سامنے رکھے گئے۔
