پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے درمیان خاندانی کشیدگی کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دے رہی ہے۔ حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے دوران بانی پی ٹی آئی نے اپنی بہن کے حوالے سے سخت زبان استعمال کی۔
علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد سے نہ صرف قانونی محاذ پر بلکہ سڑکوں پر بھی پارٹی کے بیانیے کی سب سے بڑی ترجمان رہی ہیں۔ وہ مسلسل احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش رہی ہیں اور اپنے بھائی کی رہائی کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہیں۔
تاہم، حذیفہ رحمان کے حالیہ انکشافات نے اس اتحاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندرونی معاملات اور حکمت عملی پر بانی پی ٹی آئی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات گہرے ہو رہے ہیں۔ بظاہر تو دونوں کے درمیان ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے، مگر پسِ پردہ تناؤ کی خبریں اب منظر عام پر آ رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کی جانب سے ان دعووں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پارٹی کے ترجمان عام طور پر ایسی اطلاعات کو مخالفین کی جانب سے پھیلائی گئی افواہیں قرار دیتے ہیں تاکہ کارکنوں کے حوصلے پست کیے جا سکیں۔ لیکن اس بار معاملہ پارٹی کے اندرونی حلقوں سے جڑا ہے، جو کارکنوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ اختلافات حقیقت ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پارٹی کی قیادت پر پڑے گا۔ پی ٹی آئی پہلے ہی سخت قانونی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں خاندانی سطح پر تقسیم کا تاثر پارٹی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔
فی الحال، بانی پی ٹی آئی اور علیمہ خان کے درمیان تعلقات کی اصل نوعیت کیا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف وقت ہی دے گا۔ تاہم، یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اسے اپنے اندرونی اتحاد کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
