ٹیکسلا: پولیس نے ٹک ٹاکر شمسی بی بی عرف عائشہ کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مبینہ طور پر قریبی رشتہ داروں نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔
شمسی بی بی کو 14 اگست کی شام ٹیکسلا میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ حملے میں ان کی بہن اور بھائی بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق واقعے میں ملوث دو مبینہ شوٹرز کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کی گئی۔
پولیس کے مطابق سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو موٹر سائیکل سواروں کو ایک گاڑی پر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں شمسی بی بی کے گلے میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔
ابتدائی طور پر تھانہ ٹیکسلا میں قتل اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم پولیس نے اب مقدمے میں غیرت کے نام پر قتل سے متعلق قانونی دفعہ شامل کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق شمسی بی بی کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی کے لیے دیر میں خاندان کے افراد کی ایک جرگہ نما بیٹھک بھی منعقد ہوئی تھی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس اجلاس میں 100 سے زائد افراد شریک ہوئے، جہاں مبینہ طور پر شمسی بی بی کے کزنز کو قتل کی ذمہ داری سونپی گئی۔
پولیس نے مزید دعویٰ کیا کہ مقتولہ کے والد اور بھائی بھی مبینہ طور پر اس اجلاس میں موجود تھے جہاں قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔
ابتدائی طور پر کیس کی تفتیش کا رخ مختلف تھا۔ مقتولہ کے والد نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا تھا کہ شمسی بی بی کو مالی تنازع کے باعث قتل کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق شمسی بی بی کا کوثر اور جاوید عرف شاہین کے ساتھ مالی تنازع تھا۔ مقدمے میں یہ بھی درج ہے کہ مقتولہ نے اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں کئی مرتبہ اہلخانہ کو آگاہ کیا تھا۔
تاہم بعد کی تحقیقات میں پولیس اس ابتدائی دعوے سے مختلف نتیجے پر پہنچی اور مبینہ طور پر قتل کا اصل محرک غیرت کو قرار دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس پی پوٹھوہار سمیت سینئر پولیس افسران جلد میڈیا کو تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت اور مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
