لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی سرکاری ملازم کے خلاف مناسب اور قانونی محکمانہ انکوائری مکمل کیے بغیر بڑی تادیبی سزا عائد نہیں کی جاسکتی۔ عدالت نے لاہور جنرل ہسپتال کے سکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کی برطرفی کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے سکیورٹی گارڈ شفیق خوشنود کی درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے ملازم کو اپنا دفاع کرنے کے لیے مکمل اور مؤثر موقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار کو محکمانہ کارروائی کے دوران ایئرکنڈیشنر کی پائپ چوری کرنے اور ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے الزامات کا سامنا تھا، جس کے بعد اسے ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب کسی ملازم پر سنگین الزامات عائد کیے جائیں تو اسے الزامات کا جواب دینے، اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے اور استغاثہ کے گواہوں پر جرح کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مناسب محکمانہ انکوائری مکمل کیے بغیر بڑی سزا دینا قانون کے خلاف ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ موجودہ کیس میں انکوائری ختم کرنے یا اسے ادھورا چھوڑنے کی کوئی قابلِ قبول اور قائل کن وجہ ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔
پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ایکٹ کے حوالے سے عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں "برطرفی” بطور سزا درج نہیں، جبکہ بڑی سزاؤں میں ملازمت سے برخاستگی، ملازمت سے ہٹانا اور لازمی ریٹائرمنٹ شامل ہیں۔ تاہم ایسی سزائیں صرف مقررہ قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد ہی دی جاسکتی ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض کسی ملازم پر الزام عائد کردینا متعلقہ اتھارٹی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ قانونی طریقہ کار اختیار کیے بغیر اسے ملازمت سے نکال دے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ محکمانہ کارروائی کے دوران انصاف کے فطری اصولوں اور ملازم کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مناسب اور قانونی انکوائری کے بغیر جاری کیا گیا برطرفی کا حکم آئین کے آرٹیکل 4 اور 10-A میں دی گئی قانونی ضمانتوں، منصفانہ کارروائی اور مناسب قانونی طریقہ کار کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
نتیجتاً عدالت نے شفیق خوشنود کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ حکام چوری اور ڈیوٹی سے غیر حاضری کے الزامات کی دوبارہ محکمانہ انکوائری شروع کرسکتے ہیں، بشرطیکہ تمام کارروائی قانون کے مطابق اور مقررہ طریقہ کار کے تحت کی جائے۔
