اسٹاک ہوم: سویڈن کی پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں کہ وسطی شہر فیگرستا کے ایک ہائی اسکول میں طلبہ پر تلوار سے حملے کا ملزم 18 سالہ نوجوان ایسے آن لائن گروپس سے وابستہ تھا یا نہیں جو اسکولوں میں تشدد کی ترغیب دیتے ہیں۔
جمعہ کو پیش آنے والے واقعے میں حملہ آور نے مبینہ طور پر اسکول میں طلبہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک طالبہ جاں بحق جبکہ دو کم عمر لڑکے شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مشتبہ شخص کو موقع پر گرفتار کرلیا۔
مقامی اخبار Fagersta-Posten کے مطابق ایک 17 سالہ لڑکی کے والدین نے بتایا کہ حملے میں ان کی بیٹی جان سے گئی۔
تفتیشی حکام یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ ملزم کا تھا، جس پر حملے سے تقریباً 20 منٹ قبل تلوار کی تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔ سویڈش اخبار Dagens Nyheter کے مطابق یہ تصویر ممکنہ طور پر اسکول کے واش روم میں بنائی گئی تھی۔
اکاؤنٹ حذف کیے جانے سے قبل وہ تقریباً ایک ماہ پرانا تھا اور اس پر سویڈن میں پیش آنے والے دو بڑے پرتشدد واقعات اور ناروے کے انتہائی دائیں بازو سے وابستہ قاتل اینڈرس بہرنگ بریوک کے حوالے بھی موجود تھے۔
اس اکاؤنٹ میں 2015 میں مغربی سویڈن کے شہر ٹرول ہیٹن میں ہونے والے ایک اسکول حملے کا ذکر بھی کیا گیا تھا، جس میں ایک نقاب پوش حملہ آور نے ایک تدریسی معاون اور دو طالب علموں کو قتل کیا تھا، بعد ازاں پولیس نے اسے ہلاک کردیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کار مختلف آن لائن کمیونٹیز کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا ان پلیٹ فارمز یا گروپس نے مبینہ حملہ آور کو اس کارروائی کی ترغیب دی تھی۔
ہفتے کو استغاثہ نے مشتبہ نوجوان کو قتل اور متعدد افراد کے اقدامِ قتل کے شبے میں حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔
پراسیکیوٹر این سوفی ٹروسنگ کے مطابق تحقیقات اس وقت تیزی سے جاری ہیں، حکام بیانات ریکارڈ کرنے اور مختلف معلومات جمع کرنے میں مصروف ہیں، تاہم انہوں نے تحقیقات کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
