لاہور: گوگل کی جانب سے پاکستان میں اپنا پہلا دفتر قائم کرنے اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں، تعلیم اور مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری کے شعبوں میں اپنے اقدامات کو وسعت دینے کے فیصلے نے ملک کے لیے ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کو عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے لیے تیار کرنے کے نئے امکانات پیدا کردیے ہیں۔
کمپنی کے تازہ اقدامات میں طلبہ کے لیے گوگل جیمنائی تک ایک سال کی مفت رسائی، ڈیجیٹل مہارتوں کے پروگراموں میں توسیع اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے معاونت شامل ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان میں پہلے سے موجود آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز کی بڑی تعداد کو مزید بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ان اقدامات کو طویل مدتی ملازمتوں، کاروباری مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں کس حد تک تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ٹیکنالوجی کمپنی ایرون ویو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد عزیز نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کے ٹیکنالوجی ٹیلنٹ میں اضافے کا موقع فراہم کرسکتی ہے، خصوصاً طلبہ اور ڈویلپرز کو مصنوعی ذہانت سے زیادہ واقفیت حاصل ہونے کے باعث۔
ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کو فروغ دینے، طلبہ کو مفت تربیت دینے اور ڈویلپرز کی صلاحیت بڑھانے سے مقامی ٹیلنٹ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی بڑی تعداد میں آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز موجود ہیں جو بین الاقوامی صارفین اور کمپنیوں کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اے آئی ٹولز تک وسیع رسائی اور منظم تربیت کے ذریعے یہ افرادی قوت مزید جدید مہارتیں حاصل کرسکتی ہے۔
اس کے اثرات صرف تعلیم تک محدود نہیں رہیں گے۔ اے آئی سے واقف طلبہ تحقیق، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مسائل کے حل اور کاروباری منصوبہ بندی میں ٹیکنالوجی استعمال کرسکیں گے، جبکہ کمپنیوں کو بھی نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کے لیے زیادہ تیار افرادی قوت دستیاب ہوسکتی ہے۔
سابق سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر افتخار علی ملک نے بھی طلبہ کے لیے گوگل جیمنائی کی مفت سہولت کا خیرمقدم کیا۔ ان کے مطابق اس سے پاکستانی طلبہ کو اے آئی سمجھنے، اپنی سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے اور بدلتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ کے مطابق مہارتیں حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے تعلیمی اداروں، صنعت اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا تاکہ اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی مزید وسیع کی جاسکے۔
افتخار علی ملک کے مطابق اے آئی ٹولز سے زیادہ واقفیت تحقیق، پیداواری صلاحیت، تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے ساتھ نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں روزگار کے نئے مواقع کے لیے تیار کرسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی کے باعث روزگار کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اس لیے طلبہ کو صرف اے آئی استعمال کرنے کی تربیت دینا کافی نہیں ہوگا۔ ان مہارتوں کو کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور عالمی مارکیٹ سے جوڑنا زیادہ اہم ہوگا تاکہ پاکستان اس موقع سے حقیقی معاشی فائدہ اٹھاسکے۔
احمد عزیز نے کہا کہ گوگل کی پاکستان میں سرگرمیاں صرف تربیت اور سرٹیفکیشن تک محدود نہیں بلکہ مقامی سطح پر کروم بکس کی اسمبلی بھی ٹیکنالوجی کے وسیع تر ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں مدد دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تربیت، سرٹیفکیشنز اور مقامی اسمبلی لائن ملک میں ٹیکنالوجی کے ماحول اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے مثبت پیش رفت ہیں۔
ماہرین کے مطابق ہنر مند افرادی قوت اور مضبوط ٹیکنالوجی بنیادی ڈھانچے کا امتزاج پاکستان کو ڈیجیٹل مصنوعات تیار کرنے، ٹیکنالوجی کاروبار شروع کرنے اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل بناسکتا ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی ٹریننگ اور بہتر رابطہ کاری اس ماحول کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر بھی ایک ممکنہ شعبہ بن سکتا ہے۔ کاروباری اداروں اور سرکاری شعبوں میں اے آئی کے استعمال میں اضافے کے ساتھ محفوظ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔
مقامی کلاؤڈ صلاحیت میں اضافہ ڈیٹا پرائیویسی اور ڈیٹا کے مقامی طور پر محفوظ رہنے سے متعلق خدشات کو دور کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
تاہم احمد عزیز نے خبردار کیا کہ اسلام آباد میں گوگل کا دفتر قائم کرنے کے فیصلے کو پاکستان میں بڑے کلاؤڈ ریجن یا انتہائی بڑے ڈیٹا سینٹر کے قیام کی ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسی سرمایہ کاری کے لیے الگ تجارتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق فیصلے درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں کلاؤڈ کمپنیوں اور بڑے کاروباری ڈیٹا سینٹرز کی پاکستان میں سرمایہ کاری ایک طویل مدتی موقع بن سکتی ہے، جو ملک کے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے کو مزید مضبوط کرے گا۔
