میر رضا علی کے والد نے اپنے بیٹے کے کیس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل میں مسلسل تاخیر پر حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مقامی حکام کی جانب سے بارہا یقین دہانیوں کے باوجود، کیس کی فائل اب تک دفتری فائلوں کے انبار میں دبی ہوئی ہے۔
بدھ کے روز ایک مختصر پریس کانفرنس کے دوران میر رضا کے والد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شفاف تحقیقات کا وعدہ تو کیا گیا، مگر ہر ہفتے ایک نیا بہانہ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاخیر نہ صرف شواہد کو ضائع کرنے کا باعث بن رہی ہے بلکہ ملوث افراد کے حوصلے بھی بلند کر رہی ہے۔
متاثرہ خاندان کے قانونی مشیروں کا دعویٰ ہے کہ یہ تاخیر محض انتظامی نہیں بلکہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق، متعلقہ محکمے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، جس سے خاندان کو یہ تک معلوم نہیں کہ اصل رابطہ کس سے کرنا ہے۔ خاندان کے لیے یہ خاموشی محض غفلت نہیں، بلکہ ان کے عزم کو توڑنے کی ایک کوشش ہے۔
پولیس کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل کا عمل صوبائی حکام کی حتمی منظوری کا منتظر ہے۔ حکام اسے "معمول کا دفتری عمل” قرار دے رہے ہیں، تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ ٹیم کب تشکیل دی جائے گی اور کام کب شروع ہوگا۔
میر رضا علی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھا گیا تھا، جس کے بعد مقامی رہنماؤں نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن عوامی دباؤ کے باوجود عملی اقدامات صفر ہیں۔ یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح دفتری رکاوٹیں ایک سنگین مجرمانہ تحقیقات کو منجمد کر سکتی ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، شواہد اکٹھا کرنے کا ابتدائی وقت گزر چکا ہے اور جے آئی ٹی کے قیام میں ہر گزرتا دن پراسیکیوشن کے لیے کیس کو مضبوط بنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
خاندان اب مزید انتظار کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ہفتے کے اختتام تک جے آئی ٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ فی الحال، میر رضا کے والد ایک ایسے نظام کے خلاف تنہا لڑائی لڑ رہے ہیں جو بظاہر اس معاملے سے نظریں چرانے پر بضد ہے۔
