شونوسورس ایک منفرد لمبی گردن والا ڈائنوسار تھا جو تقریباً 17 کروڑ سال پہلے مڈل جراسک دور میں زندہ تھا۔ دیگر بیشتر سوروپوڈ ڈائنوسارز کے برعکس، اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی ہتھوڑے نما بکتر بند دُم تھی، جو اسے دیوقامت سبزی خور ڈائنوسارز میں ایک منفرد دفاعی صلاحیت عطا کرتی تھی۔
اس کے فوسلز زیادہ تر چین کے صوبہ سیچوان سے دریافت ہوئے ہیں، جہاں سے ملنے والے انتہائی محفوظ ڈھانچوں نے سائنسدانوں کو اس کی جسمانی ساخت، حرکت اور ارتقائی تاریخ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔
شونوسورس کی لمبائی تقریباً 9 سے 10 میٹر (30 سے 33 فٹ) تھی اور اس کا وزن کئی ٹن تھا۔ اس کی گردن بعد کے کئی سوروپوڈز کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹی، جسم مضبوط، ٹانگیں ستون نما اور دُم کے آخری حصے پر ہڈی سے بنی بھاری گول گانٹھ موجود تھی، جس کے اردگرد حفاظتی ابھار بھی تھے۔
جدید تحقیق، جس میں سی ٹی اسکیننگ، تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلنگ اور بایو مکینیکل تجزیہ شامل ہے، سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دُم شکاری ڈائنوسارز کے خلاف دفاع کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ سائنسدانوں کے مطابق شونوسورس اپنی طاقتور دُم کو زور سے گھما کر حملہ آور شکاریوں کو شدید چوٹ پہنچا سکتا تھا۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ شونوسورس بنیادی طور پر سبزی خور تھا اور فرن، ہارس ٹیل پودوں، مخروطی درختوں کی شاخوں اور دیگر قدیم نباتات پر گزارا کرتا تھا۔ اس کے چمچ نما دانت پتے توڑنے کے لیے موزوں تھے، جبکہ اس کا بڑا نظامِ ہاضمہ سخت نباتاتی خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتا تھا۔
ماہرین کے مطابق شونوسورس سوروپوڈ ڈائنوسارز کے ابتدائی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم نوع ہے۔ اس کی دیوقامت جسامت اور منفرد دفاعی دُم اس بات کی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کہ سبزی خور ڈائنوسار جراسک دور کے طاقتور شکاریوں کے ساتھ کس طرح زندہ رہتے تھے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مزید فوسل دریافتیں اور جدید تحقیق جراسک دور کے ماحولیاتی نظام اور اس دور کے حیرت انگیز ڈائنوسارز کے بارے میں مزید اہم راز سامنے لاتی رہیں گی۔
