سیٹیوسورس زمین پر رہنے والے ابتدائی دیوقامت لمبی گردن والے ڈائنوسارز میں سے ایک تھا، جو مڈل جراسک دور میں تقریباً 16 کروڑ 80 لاکھ سے 16 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے موجود تھا۔ برطانیہ سے ملنے والے اس کے فوسلز نے سائنسدانوں کو ان عظیم سوروپوڈ ڈائنوسارز کے ابتدائی ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم مدد فراہم کی ہے، جنہوں نے بعد میں زمین پر طویل عرصے تک حکمرانی کی۔
سیٹیوسورس کی لمبائی تقریباً 15 سے 18 میٹر (49 سے 59 فٹ) تھی۔ یہ ایک بہت بڑا سبزی خور ڈائنوسار تھا، جس کی لمبی گردن، مضبوط جسم، ستون نما طاقتور ٹانگیں اور لمبی دم اسے اپنا بھاری جسم سنبھالنے میں مدد دیتی تھیں۔ اپنی دیوقامت جسامت کے باوجود سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک پُرامن جانور تھا، جو فرن، مخروطی درختوں اور جراسک دور کی دیگر نباتات پر گزارا کرتا تھا۔
حالیہ فوسل تحقیق، سی ٹی اسکیننگ، تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلنگ اور ہڈیوں کے خردبینی تجزیے کی مدد سے اس کی جسمانی ساخت، نشوونما اور حرکت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ محققین کے مطابق اس کی مضبوط ٹانگوں کی ہڈیاں خاص طور پر اس کے بھاری وزن کو سہارا دینے کے لیے ارتقا پذیر ہوئی تھیں، جس کی بدولت یہ قدیم جنگلات اور سیلابی میدانوں میں آسانی سے نقل و حرکت کر سکتا تھا۔
بعد میں آنے والے کئی سوروپوڈ ڈائنوسارز کے برعکس، سیٹیوسورس میں چند ابتدائی جسمانی خصوصیات برقرار رہیں، جس کی وجہ سے یہ دیوقامت ڈائنوسارز کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک اہم کڑی تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ابتدائی حقیقی سوروپوڈز میں شامل تھا، جس نے بعد میں آنے والے ڈپلوڈوکس اور براکیوسورس جیسے عظیم الجثہ ڈائنوسارز کی ارتقائی بنیاد رکھی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیٹیوسورس کے فوسلز پر جاری تحقیق جراسک دور کے ماحولیاتی نظام کو سمجھنے اور یہ جاننے میں مدد دے رہی ہے کہ زمین کی تاریخ کے سب سے بڑے خشکی پر رہنے والے جانور کس طرح ارتقا پذیر ہوئے۔
