ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) ایک سنگین ادارہ جاتی بحران کی زد میں ہے، جب اس کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان پر جنسی بدسلوکی کا الزام لگانے والی سابقہ ملازمہ نے پہلی بار عوامی سطح پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں ایسے رویوں کی تفصیلات بیان کی ہیں جو ان کے بقول عدالت کے اندر ایک خوفزدہ اور غیر محفوظ ماحول پیدا کرنے کا سبب بنے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق، کریم خان کے ماتحت کام کرنے کے دوران انہیں غیر اخلاقی اور زبردستی کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعات محض اتفاقی نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے طاقتور توازن کا نتیجہ تھے جس کے سامنے عدالت کے اندرونی احتسابی نظام بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی سی سی کے موجودہ ضوابط قیادت کو احتساب سے بچانے کے لیے زیادہ اور مظلوموں کے تحفظ کے لیے کم مؤثر ہیں۔
یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آئی سی سی خود ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ کریم خان اس وقت غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں اسرائیلی اور حماس کی قیادت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ عدالت کے ناقدین کا ماننا ہے کہ اس سکینڈل نے عالمی سطح پر انصاف کے دعوے دار اس ادارے کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب، عدالت کے حامیوں کا اصرار ہے کہ قانونی مینڈیٹ اور چیف پراسیکیوٹر کے ذاتی کردار کو الگ الگ دیکھا جانا چاہیے۔
آئی سی سی کے داخلی نگران ادارے ‘انڈیپنڈنٹ اوور سائٹ میکنزم’ نے ان الزامات کا جائزہ لیا تھا، تاہم متاثرہ خاتون اور قانونی ماہرین نے اس عمل کو غیر شفاف قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ تحقیقات کا عمل اس قدر کمزور تھا کہ وہ ایک طاقتور عہدیدار کے خلاف غیر جانبدارانہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہا۔ کریم خان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے، جس کا مقصد غزہ کیس میں ہونے والی پیش رفت کو سبوتاژ کرنا ہے۔
عدالت کے اندرونی ذرائع کے مطابق، اس تنازع نے عملے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہیگ کے راہداریوں میں اب قانونی کام سے زیادہ قیادت کے ذاتی کردار پر بحث ہو رہی ہے، جس سے ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
اب تمام تر نظریں ‘اسمبلی آف اسٹیٹس پارٹیز’ پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اس معاملے کی دوبارہ اور آزادانہ تحقیقات کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔ اگر اس معاملے کا شفاف حل نہ نکالا گیا، تو آئی سی سی کے لیے اپنے قانونی دائرہ اختیار کو برقرار رکھنا اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ بچانا ایک مشکل چیلنج بن جائے گا۔
