سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے آنے والے جنگلات کی آگ کے دھوئیں کو بنیاد بنا کر کینیڈین مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ مشی گن میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کے جنگلات میں لگی آگ کا دھواں امریکی شہروں کی ہوا کو آلودہ کر رہا ہے، جس کی قیمت امریکی عوام کو اپنی صحت کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
ٹرمپ نے ریلی میں موجود شرکاء سے کہا، "کینیڈا سے دھوئیں کی ایک بڑی دیوار ہماری طرف آ رہی ہے۔ وہ اپنے جنگلات کا انتظام ٹھیک سے نہیں کر رہے اور اس کا خمیازہ ہمارے پھیپھڑوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر وہ اپنی ہوا صاف نہیں رکھ سکتے، تو ہم انہیں سرحد پر قیمت چکانے پر مجبور کریں گے۔”
ماحولیاتی مسائل کو تجارتی پالیسی سے جوڑنے کا یہ اقدام امریکہ اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات میں ایک غیر معمولی موڑ ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازعات لکڑی، ڈیری مصنوعات یا توانائی کی برآمدات تک محدود رہے ہیں، لیکن فضائی معیار کو ٹیرف کے ساتھ نتھی کرنا ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے۔
رواں برس مینیسوٹا، وسکونسن اور نیویارک سمیت کئی امریکی ریاستوں میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ کیوبیک اور البرٹا کے جنگلات میں لگی ریکارڈ توڑ آگ کے باعث تعلیمی اداروں کو بیرونی سرگرمیاں معطل کرنی پڑیں اور شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایات دی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی یہ دھمکی قانونی اور عملی طور پر پیچیدہ ہے۔ تجارتی ماہر سارہ جینکنز کا کہنا ہے کہ "آپ ہوا کے رخ پر کوئی ٹیکس نہیں لگا سکتے۔ ٹیرف ایک ٹھوس آلے کے طور پر اشیاء پر لگائے جاتے ہیں، نہ کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر۔ اسے ماحولیاتی بحران سے جوڑنا عملی طور پر ناممکن ہے۔”
کینیڈین حکومت نے ابھی تک اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔ تاہم، اوٹاوا کے سفارتی ذرائع کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان صرف انتخابی سیاست کا حصہ ہے تاکہ ووٹرز کو متوجہ کیا جا سکے۔ کینیڈا کا موقف رہا ہے کہ جنگلات کی آگ کی شدت میں اضافہ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ انتظامی غفلت کا۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان دنیا کی طویل ترین غیر محفوظ سرحد موجود ہے اور دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ماحولیاتی شکایت پر تجارتی جنگ شروع ہوتی ہے تو آٹوموبائل اور زراعت سمیت کئی صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں جو ڈیوٹی فری تجارت پر انحصار کرتی ہیں۔
فی الحال یہ بیان انتخابی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے، جنہوں نے گرمیوں کا ایک بڑا حصہ ایئر پیوریفائرز کے ساتھ گزارا، یہ دھمکی اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات میں آنے والے دنوں میں مزید تلخی آ سکتی ہے۔
