وفاقی حکومت نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں جاری جماعتِ اسلامی کے دھرنے کے خلاف سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔ مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے منگل کو ایک بیان میں دھرنے کو "شرمندگی کا باعث” قرار دیتے ہوئے جماعتِ اسلامی کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس احتجاج کو فوری طور پر ختم کرے۔
لیاقت باغ میں جاری یہ دھرنا دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ بجلی کے بلوں میں اضافے اور ٹیکسوں کے خلاف شروع ہونے والا یہ احتجاج اب جڑواں شہروں کے شہریوں کے لیے دردِ سر بن چکا ہے۔ اہم شاہراہوں کی بندش اور میٹرو بس سروس کی معطلی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اب اس احتجاج کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ عوام تکلیف میں ہیں اور جماعتِ اسلامی خود اپنے ہی سیاسی وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔”
حکومت کا موقف بدستور سخت ہے۔ وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں اور ٹیکسوں میں کمی کے مطالبات آئی ایم ایف معاہدے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مالیاتی ٹیم کے مطابق، ان شرائط سے انحراف کا مطلب آئی ایم ایف پروگرام کی معطلی ہے، جس کا متحمل موجودہ معاشی حالات میں پاکستان نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی اور مراعات یافتہ طبقے پر ٹیکس لگانے کا ٹھوس لائحہ عمل نہیں دیتی۔
اس سیاسی تعطل کا سب سے زیادہ اثر عام آدمی اور چھوٹے تاجروں پر پڑ رہا ہے۔ دھرنے کے مقام کے قریب واقع کاروباری مراکز میں گاہکوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ ٹریفک کے طویل جام نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔
حکومت اب تک طاقت کے استعمال سے گریز کر رہی ہے تاکہ کسی بڑے عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ تاہم رانا ثناء اللہ کے اس بیان سے یہ واضح ہے کہ حکومت کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی اب یہ ہے کہ دھرنے کو عوامی مسائل کے بجائے "عوامی مشکلات کا سبب” بنا کر پیش کیا جائے تاکہ رائے عامہ کو احتجاج کے خلاف ہموار کیا جا سکے۔
فی الحال لیاقت باغ کے گرد کنٹینرز بدستور موجود ہیں، اور فریقین کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا۔
