پونٹ-سونڈے — ہیٹی کے زرعی خطے آرٹیمونائٹ میں جمعرات کی صبح مسلح افراد نے ایک قصبے پر دھاوا بول کر درجنوں شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ حملہ مقامی گینگ ‘گران گریف’ کی جانب سے کیا گیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے علی الصبح گھروں میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی اور متعدد گاڑیوں اور مکانات کو نذرِ آتش کر دیا۔ سینٹ مارک شہر کے مقامی ہسپتالوں میں لاشوں اور زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ زیادہ تر متاثرین کو سر اور سینے پر گولیاں ماری گئی ہیں، جو حملہ آوروں کی سفاکی کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "انہوں نے صرف لوگوں کو نہیں مارا، بلکہ ہمارے گھر اور ہماری روزی روٹی جلائی تاکہ ہم یہاں دوبارہ کبھی نہ آ سکیں۔”
آرٹیمونائٹ کا یہ خطہ ہیٹی کی خوراک کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن گزشتہ دو برسوں سے گران گریف گینگ نے یہاں کے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف زرعی زمینوں پر قبضہ کر رہا ہے بلکہ آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی بھتہ وصول کر رہا ہے۔ جمعرات کا یہ حملہ اسی علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی ایک ظالمانہ کوشش ہے۔
وزیراعظم گیری کونیلی کے دفتر نے اس واقعے کو "بے دفاع شہریوں کے خلاف گھناؤنا جرم” قرار دیا ہے۔ تاہم، زمینی حقائق حکومتی دعووں کے برعکس ہیں۔ کینیا کی قیادت میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود، گینگز کا اثر و رسوخ دارالحکومت پورٹ او پرنس سے نکل کر دیہی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہیٹی کا سیکیورٹی بحران اب قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، رواں برس گینگز کے تشدد میں 3,600 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
پونٹ-سونڈے سے نقل مکانی کرنے والے خاندان اب حکومتی اعلانات کے منتظر نہیں۔ ان کے لیے سوال ریاست کی رٹ کا نہیں، بلکہ اگلی رات زندہ بچ جانے کا ہے۔
