اسلام آباد کے ایک سرکاری ہسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں گزشتہ رات لگنے والی آگ نے 14 خاندانوں کے چراغ بجھا دیے۔ رات گئے اچانک بھڑکنے والی آگ نے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں وہاں زیرِ علاج معصوم بچے دم توڑ گئے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق آگ کا آغاز شارٹ سرکٹ سے ہوا۔ آکسیجن سلنڈرز اور طبی آلات کی موجودگی نے آگ کو تیزی سے پھیلنے کا موقع دیا، جس کے باعث عملے کو بچوں کو نکالنے کا موقع نہ مل سکا۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ دھوئیں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ سانس لینا محال تھا۔
اس واقعے نے ہسپتال انتظامیہ کی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ غم سے نڈھال والدین ہسپتال کے باہر سراپا احتجاج ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وارڈ میں نہ تو آگ بجھانے والے آلات کام کر رہے تھے اور نہ ہی الارم بجا۔ ایک والد نے روتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ "ہمیں کہا گیا تھا کہ بچہ محفوظ ہے، پھر اچانک ہر طرف دھواں پھیل گیا،” اس کے بعد وہ مزید کچھ کہنے کے قابل نہ رہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ چھ ماہ قبل ایک سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ میں ہسپتال کی بجلی کی وائرنگ کو "خطرناک” قرار دیا گیا تھا۔ سرکاری فائلوں میں دبی اس رپورٹ پر اگر بروقت عمل درآمد ہوتا تو شاید آج یہ سانحہ نہ ہوتا۔ فنڈز کی عدم دستیابی اور انتظامی سستی کے باعث یہ تنبیہات محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گئیں۔
واقعے کے بعد وزیرِ صحت نے ہسپتال کا دورہ کیا اور جوڈیشل انکوائری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔” تاہم، لواحقین کے لیے یہ روایتی بیانات اب کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ہسپتال انتظامیہ نے وارڈ کے عملے کو معطل کر دیا ہے، لیکن ان معصوم جانوں کا نقصان کسی معطلی سے پورا نہیں ہو سکتا۔
حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد کی فضاؤں میں سوگ کا عالم ہے، لیکن اس سانحے نے سرکاری ہسپتالوں کے حفاظتی نظام پر وہ سوالیہ نشان لگا دیا ہے جس کا جواب شاید کسی انکوائری رپورٹ میں بھی نہ مل سکے۔
