ریکیاوک — آئس لینڈ کی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حق میں ایک غیر متوقع فیصلہ کیا ہے۔ منگل کی رات ہونے والی اس ووٹنگ نے ملک میں ایک دہائی پرانی تقسیم کو پھر سے زندہ کر دیا ہے، جہاں حکومت اس فیصلے کے مضمرات سے نمٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔
اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ماہی گیری کی صنعت کو عالمی منڈی میں شدید مسابقت کا سامنا ہے۔ تاہم، عوام کی ایک بڑی تعداد اسے ملکی خودمختاری پر حملہ سمجھتی ہے۔ مقامی میڈیا میں اس صورتحال کو "سونا میں بیٹھنے” سے تشبیہ دی جا رہی ہے — یعنی ایک ایسا عمل جو حبس زدہ، غیر آرام دہ اور مقامی مزاج کے برعکس محسوس ہوتا ہے۔
پارلیمنٹ میں ووٹنگ کا نتیجہ بہت معمولی فرق سے نکلا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک اس معاملے پر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ وزیراعظم بیارنی بینیڈکٹسن طویل عرصے سے اس موقف پر قائم ہیں کہ آئس لینڈ یورپی اکنامک ایریا کے معاہدے کے تحت یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جس کے لیے مکمل رکنیت کی سیاسی قیمت ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بحث کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ "ہم ایک ایسے عمل کا آغاز کر رہے ہیں جسے عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔” انہوں نے اشارہ دیا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کے باوجود، حکومت اس رکنیت کو ملکی مفاد میں نہیں سمجھتی۔
اس بحث کے پیچھے 2013 کا وہ تلخ تجربہ ہے جب گزشتہ مذاکرات بری طرح ناکام ہوئے تھے۔ اس وقت بھی اصل تنازع یورپی یونین کی ماہی گیری کی سخت پالیسیوں اور آئس لینڈ کے اپنے کوٹے کے درمیان تھا۔ چونکہ آئس لینڈ کی معیشت کا دارومدار مکمل طور پر ماہی گیری پر ہے، اس لیے کسی بھی قسم کا بیرونی دباؤ یہاں سیاسی خودکشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
ایک طرف مہنگائی اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ سے پریشان طبقہ یورو کے اپنانے کو نجات کا راستہ سمجھتا ہے، تو دوسری طرف ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یورپی قوانین کو اپنانے سے مقامی صنعتیں اپنی لچک کھو بیٹھیں گی۔
حکومت اب برسلز کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی باقاعدہ درخواست دینے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن ریکیاوک کے سیاسی ایوانوں میں گرمی کم ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ آئس لینڈ کے لیے یہ صرف تجارت یا کرنسی کا سوال نہیں، بلکہ اپنی انفرادیت اور آزادی کو برقرار رکھنے کی جنگ ہے، اور یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی نئی سمت کا تعین کرے گا۔
