بوگوٹا — صدر گستاوو پیٹرو کی انتظامیہ اس وقت سخت دباؤ میں ہے جب حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف اچانک اور سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ یہ اقدام ملک کی سابقہ ’اوپن ڈور‘ پالیسی سے مکمل انحراف ہے، جس نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو برہم کر دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی اس پالیسی کے تحت ان افراد کو فوری طور پر ملک بدر کیا جا رہا ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں، خاص طور پر وہ جو عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے کے الزامات کی زد میں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ایسے رہنما کی جانب سے یو ٹرن ہے جس نے انتخابی مہم کے دوران بے گھر افراد کے حقوق کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا۔
بوگوٹا میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ پیس اسٹڈیز کے تجزیہ کار کامیلو گونزالیز کا کہنا ہے کہ "یہ صرف سیکیورٹی کا معاملہ نہیں، بلکہ اپنی معاشی پالیسیوں پر ہونے والی تنقید سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔ انتظامیہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے اخلاقی موقف کا سودا کر رہی ہے۔”
تنازع کی بڑی وجہ بے دخلی کا طریقہ کار ہے۔ قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تارکینِ وطن کو بغیر کسی قانونی مشاورت یا اپنا دفاع کرنے کا موقع دیے حراست میں لیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں خاندانوں کو سرحدوں پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس پر ملکی اور بین الاقوامی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر تنظیموں نے اس پالیسی کو "غیر انسانی” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت مجرمانہ سرگرمیوں اور ہجرت کو ایک ہی پلڑے میں تول رہی ہے، جبکہ سرکاری پولیس کے اعداد و شمار میں اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
حکومتی ترجمان نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ وزیر داخلہ جوان فرنینڈو کرسٹو نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنے شہریوں کی حفاظت کی پابند ہے اور یہ بے دخلیاں امیگریشن قوانین کے عین مطابق ہیں۔
یہ کشیدگی صدر پیٹرو کے لیے ایک نازک موڑ پر سامنے آئی ہے، جن کی مقبولیت پہلے ہی نچلی سطح پر ہے۔ کانگریس میں قانون سازی کے تعطل کے شکار صدر بظاہر اس سخت پالیسی کے ذریعے اپنی حکومت کا ایک "مضبوط تاثر” قائم کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اس کریک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کے لیے یہ سیاسی بازی گری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان میں سے کئی اب سرحدوں پر بے یار و مددگار کھڑے ہیں، جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ کولمبیا کی حکومت کا یہ سخت گیر رویہ صدر پیٹرو کے اپنے حامیوں میں بھی دراڑیں ڈال رہا ہے، جو اسے انتخابی وعدوں سے غداری قرار دے رہے ہیں۔ اس وقت سرحدوں کی جانب جانے والی بسوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن حکومتی فیصلوں پر تنقید کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
