ریکیاوک — آئس لینڈ کے شہری آج قبل از وقت انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کی تین جماعتی مخلوط حکومت ٹوٹنے کے بعد سیاسی بحران اپنے عروج پر ہے۔ ووٹرز اب یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ملک کو یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے یا اپنی روایتی خود مختار پالیسی پر قائم رہنا چاہیے۔
سیاسی بحران کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا جب وزیر اعظم بیارنی بینیڈکٹسن کی ’انڈیپینڈنس پارٹی‘ نے مخلوط حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے ساتھ مہنگائی، تارکینِ وطن کی پالیسیوں اور توانائی کے بحران پر شدید اختلافات تھے۔ حکومت کا یہ اچانک خاتمہ ووٹرز کے لیے ایک غیر متوقع موڑ ثابت ہوا ہے۔
انتخابی سروے بتاتے ہیں کہ کسی بھی ایک جماعت کو واضح اکثریت ملنا مشکل ہے۔ ’سوشل ڈیموکریٹک الائنس‘ نے یورپی یونین کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے وعدے کے ساتھ مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یورپ کے سنگل مارکیٹ تک رسائی آئس لینڈ کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، خاص طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں۔
دوسری جانب، انڈیپینڈنس پارٹی کے حامیوں کا موقف ہے کہ یورپی یونین میں شمولیت کا مطلب ملک کی ماہی گیری کی صنعت پر سمجھوتہ کرنا ہوگا۔ آئس لینڈ کے لیے مچھلیوں کا شکار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور یورپی یونین کے کوٹے سے ان کا حقِ ملکیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ریکیاوک میں مقیم سیاسی مبصر جوناس گنارسن کہتے ہیں، "لوگ حکومتی تعطل سے تنگ آ چکے ہیں۔ یہ انتخابات صرف یورپی یونین کے بارے میں نہیں، بلکہ اس بارے میں ہیں کہ کیا پرانی سیاسی قیادت اب بھی ملک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔”
معاشی صورتحال بھی ووٹرز کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ بلند شرح سود نے عام شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ نوجوان ووٹرز، جو یورپ کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے حامی ہیں، اسے معاشی استحکام کا واحد راستہ سمجھتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف، قدامت پسند حلقے اپنی خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دینا چاہتے۔
آج کے ووٹنگ کے عمل کے بعد ایک نئی اور پیچیدہ مخلوط حکومت کے قیام کے امکانات روشن ہیں۔ اگر یورپی یونین کے حامی گروہ اکثریت حاصل بھی کر لیتے ہیں، تب بھی پارلیمنٹ میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کی منظوری لینا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔
آئس لینڈ کے عوام اب ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ آج کے نتائج یہ طے کریں گے کہ آیا یہ جزیرہ تنہا اپنی معاشی جنگ لڑتا رہے گا یا یورپ کے ساتھ مل کر ایک نئے سیاسی و معاشی سفر کا آغاز کرے گا۔
