کاٹھمنڈو / بیجنگ — نیپال اور چین میں شدید مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دونوں ممالک میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 2,400 سے بڑھ گئی ہے، جبکہ امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ نے دیہاتوں کا رابطہ شہروں سے مکمل طور پر کاٹ دیا ہے۔ کاٹھمنڈو اور مضافاتی اضلاع میں کیچڑ کے تودے گرنے سے درجنوں مکانات ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں تک رسائی ناممکن ہو رہی ہے۔
دوسری جانب چین کے دریائے یانگسی کے طاس میں پانی کی سطح ریکارڈ بلندی پر پہنچ چکی ہے۔ لاکھوں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، تاہم ڈیموں اور آبی گزرگاہوں پر پڑنے والے دباؤ نے انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہروں کے نکاسی آب کے نظام کی ناکامی پر شہری حکام سے جواب طلب کر رہے ہیں۔
کاٹھمنڈو کے ایک رہائشی نے بتایا، "ہم سب کچھ کھو چکے ہیں۔ حکام نے الرٹ رہنے کا کہا تھا، لیکن پانی اتنی تیزی سے آیا کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔” وہ گزشتہ تین روز سے دریا کے کنارے اپنے لاپتہ خاندان کو تلاش کر رہے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ صورتحال غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں اور بے ہنگم تعمیرات کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ موسمیاتی سائنسدانوں نے خطے میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی تھی، لیکن انفراسٹرکچر اس قدرتی شدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تباہی کے اثرات سپلائی چین پر مرتب ہوں گے، جس سے خطے میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتوں نے ہنگامی فنڈز جاری کرنے کا اعلان تو کیا ہے، لیکن بنیادی مسئلہ بھاری مشینری اور امدادی ٹیموں کا متاثرہ علاقوں تک نہ پہنچ پانا ہے۔
اگلے 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی نے ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اور ان ہزاروں خاندانوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں جو تاحال اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
