وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو محض ایک حادثہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں لگنے والی اس آگ نے انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ہسپتال کے عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا تھا، مگر ہسپتال کے اہم ریکارڈز اور طبی آلات کو پہنچنے والا نقصان انتظامی امور کو مفلوج کر گیا ہے۔
مصدق ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آگ لگنے کے وقت پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ٹھیک اس وقت پیش آیا جب ہسپتال کے انتظامی ریکارڈز کی آڈٹ کی تیاری ہو رہی تھی۔ وزیر نے واضح کیا کہ اسے محض شارٹ سرکٹ قرار دے کر فائل بند نہیں کی جا سکتی۔
"یہ صرف ایک آگ کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس آگ کی لپیٹ میں کون سے دستاویزات اور ثبوت آئے ہیں،” مصدق ملک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر اس امکان کو رد نہیں کیا کہ ریکارڈ کو جان بوجھ کر تلف کیا گیا ہو۔
پمز ہسپتال میں روزانہ ہزاروں غریب مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ فارمیسی اور ریکارڈ آفس کے متاثر ہونے سے مریضوں کی ہسٹری اور ادویات کی فراہمی کا نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کا ابتدائی مؤقف ہے کہ آگ پرانی وائرنگ کے باعث لگی، لیکن وزیر پیٹرولیم کے سخت بیان نے اس معاملے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے جو فرانزک رپورٹ کی روشنی میں حقائق سامنے لائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ واقعی پرانی عمارت کا ایک حادثہ تھا یا پھر ریکارڈ مٹانے کی ایک سوچی سمجھی سازش۔
تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ہی یہ طے کرے گی کہ پمز کی انتظامیہ احتساب کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی یا یہ واقعہ بھی اسلام آباد کے دیگر سرکاری مسائل کی طرح "حادثاتی” قرار دے کر دبا دیا جائے گا۔
