کراچی کے گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ میں بلڈنگ انتظامیہ اور مقامی فائر سیفٹی حکام کو براہِ راست ذمہ دار قرار دے دیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، عمارت میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کا نظام مکمل طور پر ناکام رہا۔
تحقیقاتی ٹیم کے مطابق اگر عمارت میں آگ بجھانے کا نظام فعال ہوتا تو آگ کو چند منٹ میں کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ تاہم، عمارت کے فائر ہائیڈرنٹس خشک تھے اور ہنگامی اخراج کے راستے مستقل طور پر بند کر دیے گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ پلازہ کے پاس فائر سیفٹی کا کوئی قانونی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، اور حکام کی جانب سے بارہا معائنے کے باوجود اس سنگین خلاف ورزی کو نظر انداز کیا گیا۔
تحقیقاتی کمیشن کے ایک سینئر رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ حادثہ محض اتفاق نہیں، بلکہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔” کمیشن کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انتظامیہ نے بنیادی حفاظتی اقدامات پر دکانوں کے کرایوں اور تجارتی مفادات کو ترجیح دی۔ اس کے ساتھ ساتھ، میونسپل فائر ڈیپارٹمنٹ کو بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ بارہا انتباہ کے باوجود انہوں نے عمارت میں حفاظتی معیارات کی نفاذ میں کوتاہی برتی۔
گل پلازہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں خریداروں کی آمدورفت رہتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کی بجلی کی وائرنگ انتہائی خستہ حال تھی، جس نے ابتدائی چنگاری کو بھڑکایا اور راہداریوں میں موجود غیر قانونی سامان نے آگ کو پھیلنے میں مدد دی۔
کمیشن نے پلازہ کی انتظامی کمیٹی کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کرنے اور نگرانی کے فرائض میں غفلت برتنے والے تین میونسپل افسران کو معطل کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں شہر کی تمام کثیر المنزلہ تجارتی عمارتوں کا لازمی سیفٹی آڈٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ کمیشن نے تجویز دی ہے کہ جو عمارتیں مہینے کے آخر تک حفاظتی معیارات پر پورا نہ اتریں، انہیں سیل کر دیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارشات محض کاغذوں تک محدود رہیں گی یا شہر بھر میں حفاظتی اقدامات کا کوئی ٹھوس سلسلہ شروع ہوگا۔ متاثرین کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ رپورٹ کے نتائج کو صرف فائلوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان تمام افراد کو کٹہرے میں لایا جائے جن کی غفلت نے کئی قیمتی جانیں ضائع کیں۔
