اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی آگ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کی سنگین کوتاہیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
آگ مبینہ طور پر وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ اگرچہ ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نوزائیدہ بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، تاہم اس واقعے نے ہسپتال کے بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی پروٹوکول پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق، شہباز شریف نے واضح کیا کہ "انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے وزارت صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ نہ صرف پمز بلکہ دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی برقی نظام اور فائر سیفٹی کے آلات کا فوری آڈٹ کرے۔
پمز ہسپتال، جو وفاقی دارالحکومت اور گردونواح کے لاکھوں مریضوں کے لیے واحد بڑی امید ہے، طویل عرصے سے پرانی مشینری اور ناقص دیکھ بھال کے مسائل کا شکار ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے اندر اکثر بجلی کے جھٹکے لگنا اور تاروں کا جلنا معمول بن چکا ہے، جس پر انتظامیہ کی خاموشی مجرمانہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وارڈ میں نصب آگ بجھانے والے آلات یا تو ناکارہ تھے یا دھواں بھرنے کے باوجود بروقت کام نہیں کر سکے۔ محکمہ صحت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو یہ تعین کرے گی کہ واقعے کے وقت ڈیوٹی پر کون موجود تھا اور کیا حفاظتی چیک لسٹ کے مطابق اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب کسی سرکاری ہسپتال میں اس نوعیت کی غفلت سامنے آئی ہو۔ ملک بھر کے ہسپتالوں میں ناقص وائرنگ کے باعث آگ لگنے کے واقعات آئے دن رونما ہوتے رہتے ہیں، لیکن ذمہ داروں کے خلاف عملی کارروائی کا فقدان ان واقعات کے اعادہ کا باعث بنتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کو 48 گھنٹوں کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ کارروائی صرف ایک وقتی ردعمل ثابت ہوتی ہے یا حکومت واقعی ہسپتالوں کے بوسیدہ نظام کی اصلاح کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے۔
