کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ کی تحقیقاتی جوائنٹ کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ میں انتظامیہ کو واقعے کا براہِ راست ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پلازہ کی انتظامیہ عمارت میں موجود سنگین حفاظتی نقائص سے مکمل طور پر آگاہ تھی، لیکن اس کے باوجود کسی قسم کے اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے۔
تحقیقاتی رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ عمارت کا فائر فائٹنگ سسٹم صرف دکھاوے کا تھا۔ ہائیڈرنٹس خشک پڑے تھے، آگ بجھانے والے آلات کی معیاد ختم ہو چکی تھی اور ہنگامی اخراج کے راستوں پر دکانوں کا سامان رکھ کر انہیں مستقل بند کر دیا گیا تھا۔ یہ محض غفلت نہیں، بلکہ ایک منظم لاپرواہی تھی جس نے ایک معمولی شارٹ سرکٹ کو ہولناک سانحے میں بدل دیا۔
کمیٹی کو ایسے شواہد ملے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو بجلی کے ناقص نظام کے بارے میں متعدد بار آگاہ کیا گیا تھا، مگر دکانوں کی آپریشنل سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ان وارننگز کو نظر انداز کیا گیا۔ دکانداروں اور خریداروں کی جانوں کو داؤ پر لگا کر منافع کو ترجیح دینا ہی اس تباہی کا بنیادی سبب بنا۔
"انتظامیہ نے ہر انتباہی اشارے کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا،” تحقیقاتی ٹیم کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ مینٹیننس کی درخواستوں کو مسلسل التوا میں رکھا گیا تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ رپورٹ انتظامیہ کے خلاف مجرمانہ غفلت کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی پر اب شدید دباؤ ہے کہ وہ نہ صرف گل پلازہ کی انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کرے، بلکہ شہر بھر کی دیگر تجارتی عمارتوں کا بھی ہنگامی آڈٹ کرے۔
اپنا سب کچھ کھو دینے والے دکانداروں کے لیے یہ رپورٹ کوئی مرہم نہیں، بلکہ ان کے خدشات کی تصدیق ہے۔ یہ سانحہ قسمت کا کھیل نہیں، بلکہ انتظامیہ کی کوتاہی کا نتیجہ تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکام اس رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کو کٹہرے میں لا پائیں گے، یا یہ فائل بھی دیگر رپورٹس کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جائے گی۔
