شمالی الجزائر کے پہاڑی علاقوں میں بھڑکنے والی آگ نے تباہی کے ایسے نشان چھوڑے ہیں کہ اب وہاں صرف راکھ اور ملبہ باقی ہے۔ بیجایہ اور بویرہ کے علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی موجودہ تعداد (34) میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے۔
جن لوگوں نے جان بچا کر بھاگنے میں کامیابی حاصل کی، ان کے لیے اب زندگی کا دوبارہ آغاز کرنا ایک ناممکن خواب لگتا ہے۔ ساحل کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہائشی احمد نے سسکتے ہوئے کہا، "کچھ نہیں بچا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ میرا گھر، میرے باغات، میری پوری زندگی ایک گھنٹے میں راکھ ہو گئی۔”
یہ آگ 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والی شدید گرمی کی لہر کے دوران بھڑکی، جس نے مقامی فائر فائٹرز کی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ حکومت نے 8 ہزار سے زائد اہلکار اور درجنوں طیارے آگ بجھانے کے لیے میدان میں اتارے، لیکن تیز ہواؤں کے باعث شعلے پہاڑی راستوں سے گزر کر رہائشی آبادیوں تک پہنچ گئے۔ کئی متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں بروقت انخلاء کی اطلاع نہیں دی گئی، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی اور بحیرہ روم کے خطے میں بننے والا ‘ہیٹ ڈوم’ اس تباہی کا بنیادی سبب ہے۔ شمالی افریقہ میں گرمیوں میں جھاڑیوں میں آگ لگنا معمول کی بات ہے، لیکن اس بار شدت اور رفتار نے ہنگامی خدمات کے نظام کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حکومت پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فضائی بیڑے کے زیادہ تر طیارے مرمت کے منتظر تھے، جس کی وجہ سے بروقت امداد نہ پہنچ سکی۔ دوسری جانب وزارتِ داخلہ کا موقف ہے کہ منگل اور بدھ کے روز چلنے والی تند و تیز ہواؤں نے فضائی آپریشن کو عملی طور پر ناممکن بنا دیا تھا۔
اب جبکہ دھواں چھٹ رہا ہے، لوگ اپنی بستیوں میں واپس لوٹ رہے ہیں جہاں انہیں صرف جلی ہوئی کاروں کے ڈھانچے اور اپنے گھروں کی بنیادیں نظر آ رہی ہیں۔ ہزاروں افراد عارضی کیمپوں اور اسکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں جب موسم ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے، وہ دوبارہ اپنے گھر کیسے تعمیر کریں گے۔
حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آگ کے اصل اسباب کا تعین کیا جائے گا اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی، جس میں جان بوجھ کر آگ لگانے کے امکانات بھی شامل ہیں۔ لیکن ان متاثرین کے لیے، جن کے پیارے ان شعلوں کی نذر ہو چکے ہیں، یہ تحقیقات کسی تسلی کا باعث نہیں ہیں۔ وہ اس وقت صرف اس خاموشی کا سامنا کر رہے ہیں جو آگ نے اپنے پیچھے چھوڑی ہے۔
