راولپنڈی — جماعت اسلامی نے حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔
انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات اور دفعہ 144 کے نفاذ کا بہانہ بنا کر جلسے کی اجازت سے انکار کے بعد صورتحال کشیدہ ہو چکی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے سرکاری موقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی آواز دبانے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
پارٹی کے ایک مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "ہم بھیک نہیں مانگ رہے، اپنا آئینی حق مانگ رہے ہیں۔ اگر لیاقت باغ کا راستہ روکا گیا تو کل صبح تک پورا شہر مفلوج ہوگا۔”
یہ دھمکی حکومتی ایوانوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ جڑواں شہروں میں پہلے ہی حساس سیکیورٹی الرٹ نافذ ہے، اور کسی طویل دھرنے کا مطلب دارالحکومت کا مکمل طور پر جام ہو جانا ہے۔ وزارت داخلہ کے لیے یہ منظرنامہ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ ماضی میں دھرنوں کے باعث شہر کی معمول کی زندگی کئی ہفتوں تک متاثر رہ چکی ہے۔
لیاقت باغ اور اسلام آباد میں داخلے کے اہم مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ مرکزی شاہراہوں پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں، جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ شہریوں کے لیے صبح کا سفر امتحان بن چکا ہے، جو ممکنہ احتجاج کے اثرات کی ایک جھلک ہے۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ کے گرد گھومتا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے ضروری ہیں، لیکن جماعت اسلامی عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو اپنے احتجاج کا ایندھن بنا رہی ہے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کا دفعہ 144 کا سہارا لینا اب سیاسی اپوزیشن کو دبانے کا ایک فرسودہ ہتھیار بن چکا ہے۔ عدالتیں ماضی میں بھی ایسے اقدامات کو کالعدم قرار دیتی رہی ہیں، مگر سیاسی درجہ حرارت بڑھتے ہی انتظامیہ دوبارہ اسی راستے پر چل پڑتی ہے۔
فی الحال دونوں فریقین اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔ حکومتی سطح پر تاحال کسی سمجھوتے کی پیشکش نہیں ہوئی، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت ہنگامی اجلاسوں میں اگلے لائحہ عمل کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
اگر جلسے کو روکا گیا تو جماعت اسلامی نے مقامی تنظیموں کو "چکا جام” ہڑتال شروع کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ لیاقت باغ تک جانے کا راستہ کھولتی ہے یا پھر دارالحکومت کو ایک بار پھر مفلوج کر دیا جائے گا۔ فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ پہلے کون اپنی ضد چھوڑتا ہے۔
