ایمسٹرڈیم — رائل ڈچ فٹ بال ایسوسی ایشن نے فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ڈچ فٹ بال حکام نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ انفنٹینو کو 2027 تک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے، تاکہ فیفا کے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کی جا سکیں۔
ڈچ فیڈریشن کا موقف ہے کہ انفنٹینو کا دور شفافیت کے فقدان اور مالی مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے، جس نے کھیل کی اصل روح کو متاثر کیا ہے۔ ایک پریس بریفنگ کے دوران ڈچ حکام نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فیفا کی قیادت میں تبدیلی لائی جائے تاکہ اس عالمی ادارے کا وقار بحال ہو سکے۔
انفنٹینو نے 2023 میں بلامقابلہ دوبارہ انتخاب جیتنے کے بعد اپنے اقتدار کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 48 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ جیسے اقدامات کے ذریعے انہوں نے اپنی گرفت مضبوط رکھی ہے، لیکن یورپ کی بڑی فٹ بال فیڈریشنز اب اس طرزِ حکمرانی سے بیزار نظر آتی ہیں۔ ڈچ فیڈریشن اب دیگر یورپی ممالک کو بھی اس مہم میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
فیفا کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی باقاعدہ ردعمل نہیں دیا گیا، تاہم ترجمان نے ہمیشہ کی طرح "اتحاد” اور "کھیل کی ترقی” کا روایتی بیان دہرایا ہے۔ انفنٹینو خود پہلے بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ 2027 کے بعد بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے خواہشمند ہیں، کیونکہ انہیں فیفا کے زیادہ تر رکن ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ڈچ فیڈریشن کا یہ مطالبہ محض ایک علامتی احتجاج ثابت ہوگا یا یورپ کے دیگر بڑے فٹ بال ممالک بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ اگر انگلینڈ، جرمنی اور اسپین جیسے ممالک نے اس مطالبے کی حمایت نہ کی تو انفنٹینو کے لیے اس دباؤ کو نظر انداز کرنا مشکل نہیں ہوگا۔
فیفا کی سیاست میں تبدیلی لانا آسان نہیں، لیکن ڈچ فیڈریشن کا یہ قدم اس بات کی علامت ہے کہ اب فیفا کے اندرونی حلقوں میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ ایک ایسی تنظیم جہاں اقتدار برسوں سے ایک جگہ مرتکز ہو، وہاں چھوٹی سی دراڑ بھی مستقبل میں بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
