شمالی قبرص کے ساحل کے قریب مہاجرین کی کشتی ڈوبنے سے کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق حادثے کے بعد 23 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
کشتی میں تقریباً 50 افراد سوار تھے جو منگل کی رات شدید لہروں کی زد میں آ کر الٹ گئی۔ علاقائی میری ٹائم پولیس کو جب مدد کی کال موصول ہوئی تو وہ جائے وقوعہ پر پہنچی، تاہم تب تک کشتی سمندر کی تند و تیز لہروں میں غرق ہو چکی تھی۔
ریسکیو آپریشن میں شامل ایک کوآرڈینیٹر نے بتایا، "سمندری حالات انتہائی سنگین تھے، ابتدائی چند گھنٹوں میں سات لاشیں نکال لی گئیں، لیکن لہروں کا بہاؤ لاپتہ افراد کو دور لے جا رہا ہے۔”
مہاجرین کی شہریت کے بارے میں تاحال حتمی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ یہ کشتی ترکی کے ساحل سے قبرص کی جانب گامزن تھی۔ انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی یہ کشتیاں اکثر خستہ حال ہوتی ہیں اور خراب موسم میں سمندر کا دباؤ برداشت کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔
مقامی ہسپتالوں میں چند زندہ بچ جانے والے افراد کو منتقل کیا گیا ہے، جو شدید سردی اور صدمے کی حالت میں ہیں۔ پولیس ان افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ اس سمگلنگ نیٹ ورک تک پہنچا جا سکے جس نے اس خطرناک سفر کا انتظام کیا تھا۔
بحیرہ روم میں مہاجرین کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور یہ حادثہ اسی سلسلے کی ایک المناک کڑی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ساحلی پٹی کا فضائی جائزہ لے رہی ہیں۔ بدھ کی صبح تک تلاش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے، لیکن حکام نے متنبہ کیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
اپنوں کی بازیابی کے منتظر خاندانوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ ایک نئی اذیت بن چکا ہے۔ ریسکیو آپریشن کی ٹیمیں اب بھی سمندر میں موجود ہیں، مگر موسم کی خرابی اور اندھیرا امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
