بھارت کی ریاست بہار کے ضلع بھاگلپور میں منگل کے روز ایک رہائشی عمارت میں قائم غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے شدید دھماکے کے نتیجے میں 8 بچے جاں بحق ہو گئے۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ عمارت زمین بوس ہو گئی، جس کے ملبے تلے دب کر بچوں کی موت واقع ہوئی۔
مقامی پولیس کے مطابق، یہ کارخانہ کسی بھی قسم کے حفاظتی انتظامات اور حکومتی اجازت نامے کے بغیر ایک گنجان آباد علاقے میں چلایا جا رہا تھا۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، تاہم عمارت کی خستہ حالی اور دھماکے کی شدت کے باعث بچوں کو بچانے کی کوششیں ناکام رہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ عمارت بغیر کسی لائسنس کے پٹاخوں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ ہم اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو اس خطرناک کام پر کیسے مامور کیا گیا اور مقامی حکام کو اس غیر قانونی سرگرمی کا علم کیوں نہ ہوا۔”
بھارت میں پٹاخوں کی تیاری کے لیے سخت حفاظتی قوانین اور زوننگ کے اصول وضع کیے گئے ہیں، لیکن دیہی اور رہائشی علاقوں میں ٹیکس اور حکومتی نگرانی سے بچنے کے لیے ایسے چھوٹے غیر قانونی کارخانے کثرت سے موجود ہیں۔ ان مقامات پر کام کرنے والے بچوں کو اکثر انتہائی قلیل معاوضے پر انتہائی خطرناک کیمیکلز کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اس المناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ غربت کے مارے ان بچوں سے مزدوری کروانا ایک مجرمانہ فعل ہے، جس کی ذمہ داری فیکٹری مالکان کے ساتھ ساتھ ان حکام پر بھی عائد ہوتی ہے جو رشوت کے عوض ایسی فیکٹریوں کو بند نہیں کرواتے۔
پولیس نے عمارت کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جو دھماکے کے فوری بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ سے نمونے اکٹھے کر رہی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا دھماکہ خیز مواد میں ممنوعہ کیمیکلز کا استعمال کیا گیا تھا۔
ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن مقامی لوگ اس سے مطمئن نہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ضلع بھر میں چلنے والی ایسی تمام غیر قانونی فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔
