متحدہ عرب امارات میں اب سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ‘اسٹار لنک’ باضابطہ طور پر فعال ہو چکی ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی یہ سروس اب صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے دستیاب ہے، جس کے ساتھ ہی برسوں سے جاری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
اس سروس کا بنیادی ہدف وہ علاقے ہیں جہاں روایتی فائبر آپٹک نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے یا وہاں کنکشن کے مسائل درپیش ہیں۔ دبئی اور ابوظہبی جیسے بڑے شہروں میں پہلے ہی تیز ترین انٹرنیٹ موجود ہے، لیکن اسٹار لنک کی موجودگی صحرائی علاقوں، تعمیراتی سائٹس اور سمندری آپریشنز کے لیے ایک نیا آپشن فراہم کرتی ہے۔
قیمتوں کی بات کریں تو ہارڈویئر کٹ، جس میں ڈش اور راؤٹر شامل ہیں، ایک بار کی ادائیگی کے طور پر 1,999 درہم میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ، رہائشی صارفین کے لیے ماہانہ پیکج 250 درہم سے شروع ہوتا ہے۔ یہ قیمت اسے مقامی ٹیلی کام کمپنیوں ‘اتصالات’ اور ‘دو’ کے سستے پیکجز کے مقابلے میں ایک پریمیم سروس بناتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اسٹار لنک کا مقصد عام شہری مارکیٹ کے بجائے صنعتی شعبے کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ لاجسٹکس، تعمیرات اور آف شور انرجی کے منصوبے، جو اکثر سست انٹرنیٹ کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہتے تھے، اب ریئل ٹائم ڈیٹا کی منتقلی کر سکیں گے۔ لو ارتھ آربٹ سیٹلائٹس کا وسیع جال انٹرنیٹ کی لیٹنسی کو کم کرنے میں مدد دے گا، جو کہ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔
ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے اس سروس کے لیے لائسنس جاری کرتے ہوئے اسے ملکی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کا حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم، اسٹار لنک کو یہاں کام کرنے کے لیے مقامی ڈیٹا قوانین کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی، جو کہ خطے میں کام کرنے والی تمام بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔
عام صارف کے لیے یہ تبدیلی فوری طور پر بہت زیادہ محسوس نہیں ہوگی، کیونکہ شہروں میں فائبر انٹرنیٹ پہلے ہی بہترین کارکردگی کا حامل ہے۔ البتہ، شہر سے دور رہنے والوں یا ریموٹ ورک کرنے والوں کے لیے اب انٹرنیٹ کے "ڈیڈ زونز” کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
اسٹار لنک نے ابھی تک اپنی سروس کی توسیع کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی، لیکن اس کی آمد نے مقامی ٹیلی کام مارکیٹ میں ہلچل ضرور پیدا کر دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مقامی کمپنیاں اس نئی مسابقت کا جواب کس طرح دیتی ہیں۔
