بغداد: عراق کی سرحدی چوکیوں پر آج صورتحال بے قابو ہو گئی۔ سکیورٹی فورسز کے لیے زرباتیہ اور شلمچہ بارڈر پر جمع ہونے والے ہجوم کو سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ خاندان آہنی گیٹوں کے سامنے دھکم پیل کا شکار ہیں، گرمی میں بچوں کے رونے کی آوازیں آ رہی ہیں، اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے گارڈز کو ہوائی فائرنگ کرنی پڑی۔
یہ بحران منگل کی صبح شروع ہوا۔ ہزاروں زائرین، جن میں سے بڑی تعداد پیدل سفر کر رہی تھی، بیک وقت ان دو سرحدی پوائنٹس پر پہنچ گئے۔ حکام نے رش کو کنٹرول کرنے کے لیے گیٹ بند کر دیے، لیکن اس اقدام نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔ گیٹ بند ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی اور لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے۔
علی حسن، جو زرباتیہ چیک پوائنٹ پر پھنسے ہوئے زائرین میں شامل ہیں، نے بتایا: "ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ راستہ ہموار ہوگا، لیکن اب ہم 14 گھنٹوں سے یہاں کھڑے ہیں۔ نہ پانی ہے، نہ چھاؤں۔ لوگ بے ہوش ہو رہے ہیں اور سکیورٹی اہلکار صرف سٹیل کے گیٹوں کے پیچھے کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں۔”
بغداد میں وزارتِ داخلہ نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ یہ رش کب تک ختم ہوگا۔ ترجمان نے "انفراسٹرکچر پر غیر معمولی دباؤ” کا عذر پیش کیا، لیکن ناقدین اسے حکومتی منصوبہ بندی کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ہفتوں پہلے ہی ٹریفک کے اس بڑے دباؤ کی پیش گوئی کر دی گئی تھی، تاہم حکومت نے نہ تو عملے کی تعداد بڑھائی اور نہ ہی اضافی ٹرانزٹ لین کھولنے کا انتظام کیا۔
یہ افراتفری محض انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ تنگ راہداریوں میں ہزاروں افراد کے سمٹ جانے سے بھگدڑ اور جانی نقصان کا خدشہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ گراؤنڈ پر موجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ طبی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے بزرگ اور بیمار افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
یہ صورتحال عراق کے سرحدی انفراسٹرکچر کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ ویزا کے عمل کو ڈیجیٹل کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کی سابقہ کوششیں مقامی بیوروکریسی کی نذر ہو گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی مسافر انہی پرانے چیک پوائنٹس کے رحم و کرم پر ہیں جو اس قسم کے بڑے ہجوم کو سنبھالنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔
جب تک گیٹ نہیں کھلتے، ہجوم بڑھتا رہے گا۔ ہر گزرتا گھنٹہ مایوسی کو غصے میں بدل رہا ہے، جس سے کسی بڑے حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ فی الحال، سرحد ایک بند دیوار کی مانند ہے اور دوسری طرف کھڑے لوگوں کے پاس اب انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
