اسکردو، 2 جون: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے لیے زیادہ سیاسی اور انتظامی خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے مستقبل کا فیصلہ اسلام آباد کے بجائے یہاں کے عوام کو کرنا چاہیے۔
شگر میں انتخابی مہم کے دوران ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ گلگت بلتستان سے متعلق کسی بھی آئندہ آئینی انتظام میں مقامی لوگوں کے حقوق کا تحفظ لازمی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں جیسے اختیارات اور وسائل ملنے چاہییں۔ ان کے مطابق حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مقامی اداروں کو ترقی، مالیات اور حکمرانی کے فیصلوں کا اختیار دیا جائے۔
بلاول بھٹو نے وفاقی وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات براہِ راست گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی منتخب اسمبلیوں کو منتقل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے پہاڑ، معدنیات اور قدرتی وسائل سب سے پہلے یہاں کے عوام کا حق ہیں۔ ان وسائل پر مقامی اختیار سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کی معیشت بہتر ہو گی۔
بلاول نے یہ تجویز بھی دی کہ گلگت بلتستان کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ کرائے جائیں تاکہ خطے کی سیاسی حیثیت اور نمائندگی مضبوط ہو۔
خطاب میں انہوں نے معاشی مسائل کا بھی ذکر کیا اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فلاحی پروگرام کمزور علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان، کے لیے نہایت اہم ہیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے یہ بیانات انتخابی مہم کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، جہاں آئینی حیثیت، وسائل پر اختیار، نمائندگی اور مقامی خودمختاری جیسے معاملات عرصے سے سیاسی بحث کا مرکز ہیں۔
