عبداللہ طاہر قتل کیس میں پولیس نے باضابطہ طور پر تین ملزمان کو نامزد کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں نے فرانزک شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں یہ پیش رفت کی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق، مقتول کے موبائل فون سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل ڈیٹا نے کیس کا رخ موڑ دیا ہے۔ اس ڈیٹا سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وقوعہ کے وقت یہ تینوں افراد جائے وقوعہ کے قریب موجود تھے۔ پولیس نے فی الحال ملزمان کے نام صیغہ راز میں رکھے ہیں تاکہ تفتیش کے عمل اور گرفتاری کی کوششوں میں خلل نہ پڑے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارے پاس اب ملزمان کو حراست میں لینے کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ہماری تمام تر توجہ اب ان افراد کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لانے پر ہے۔”
عبداللہ طاہر کے قتل کے بعد سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ گزشتہ چند روز کے دوران مقامی افراد اور سول سوسائٹی کی جانب سے پولیس کی سست روی کے خلاف احتجاج بھی کیے گئے تھے۔ ان مظاہروں کے بعد پولیس پر دباؤ بڑھا، جس کے نتیجے میں یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔
مقتول کے اہل خانہ نے پولیس کی جانب سے تین افراد کے نامزد ہونے پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نام درج ہونا کافی نہیں، جب تک ملزمان ہتھکڑیوں میں نظر نہ آئیں۔ خاندان کو خدشہ ہے کہ ملزمان صوبائی سرحد پار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس کے پیش نظر پولیس نے ہائی وے پیٹرولنگ اور سرحدی چیک پوسٹوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے۔
پولیس اب اس پہلو پر بھی کام کر رہی ہے کہ آیا یہ قتل کسی پرانی دشمنی کا نتیجہ تھا یا کسی معمولی تلخ کلامی کے بعد پیش آنے والا افسوسناک واقعہ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی اصل محرکات سامنے آ سکیں گے۔
مقتول کے لواحقین جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے ڈیڈ لائن دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ فی الحال، تفتیشی ٹیمیں ملزمان کے ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں، لیکن کوئی بھی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکا۔
