سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں تشدد کا نشانہ بننے والے خاندان کو فوری طور پر پولیس سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا، جس میں مسلح افراد کو ایک خاندان کی گاڑی پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس واقعے نے شہر میں طاقتور حلقوں کے اثر و رسوخ اور قانون کی بالادستی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جسٹس محمد کریم خان آغا نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندان کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ متاثرین کو ملنے والی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور پولیس کو سیکیورٹی اقدامات کی رپورٹ بھی پیش کرنی ہوگی۔
واقعہ چند روز قبل پیش آیا جب چند مسلح افراد نے ڈی ایچ اے کی ایک سڑک پر خاندان کی گاڑی کو گھیر لیا۔ حملہ آوروں نے گاڑی کے شیشے توڑے اور گاڑی میں موجود افراد کو شدید دھمکیاں دیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور چند ملزمان کو گرفتار کیا گیا، تاہم متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ انہیں مقدمہ واپس لینے کے لیے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔
کراچی میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جہاں بااثر افراد کے خلاف کارروائی کے دوران قانونی عمل کو اثر و رسوخ کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ متاثرین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی جانب سے صلح کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جس سے خاندان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤنڈ زون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی طور پر سیکیورٹی کے انتظامات کی نگرانی کریں۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے کیس کی پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اس معاملے کی کڑی نگرانی کرے گی تاکہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کے لیے یہ کیس کراچی پولیس کی غیر جانبداری کا امتحان بن چکا ہے۔ عدالت کی مداخلت نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ بااثر افراد قانون سے بالاتر ہیں۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ پولیس عدالتی حکم پر کتنی تیزی سے عمل درآمد کرتی ہے اور کیا یہ تفتیش کسی منطقی انجام تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔
کیس کی اگلی سماعت رواں ماہ کے آخر میں ہوگی، جس میں عدالت پولیس کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی اور تفتیش کی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔
