وزیراعظم نریندر مودی نے ماسکو میں ولادیمیر پوتن کے سامنے بیٹھ کر واضح کر دیا کہ میدانِ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ یوکرین میں بچوں کے ہسپتال پر حملے کے سائے میں ہونے والی اس حالیہ ملاقات نے نئی دہلی اور ماسکو کے تعلقات کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ مودی کا یہ کہنا کہ "معصوم بچوں کی موت پر دل خون کے آنسو روتا ہے”، محض ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ روس کے لیے ایک سخت سفارتی اشارہ تھا۔
بھارت کے لیے یہ دورہ ایک تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف تھا۔ ایک طرف روس کے ساتھ دہائیوں پرانی دفاعی شراکت داری اور سستے تیل کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف عالمی سطح پر اپنی اخلاقی ساکھ برقرار رکھنے کا چیلنج۔ مودی نے پوتن کو بتایا کہ حل بندوق کی گولی سے نہیں بلکہ بات چیت سے نکلے گا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن میں نیٹو رہنماؤں کا اجلاس جاری تھا، جہاں روس کے خلاف مزید سخت اقدامات پر غور ہو رہا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی نے اس وقت یہ لہجہ کیوں اپنایا؟ جواب سادہ ہے: بھارت اب صرف ایک خاموش تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہتا۔ نئی دہلی خود کو ایک "عالمی ثالث” کے طور پر دیکھ رہا ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکے۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے مودی کے پوتن سے گلے ملنے کو "شدید مایوس کن” قرار دیا، جس کے بعد مودی کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ کریملن کے اندر کھڑے ہو کر امن کی بات کریں۔
لیکن کیا پوتن سنیں گے؟ حقیقت پسندانہ نظر ڈالیں تو پوتن نے مودی کی امن پسند سوچ کی تعریف تو کی لیکن جنگی اہداف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ روس کے لیے بھارت ایک اہم معاشی لائف لائن ہے، خاص طور پر مغربی پابندیوں کے دور میں۔ پوتن بھارت کی دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، مگر ان کی فوجی حکمت عملی ان کے اپنے سیاسی بقا اور جغرافیائی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔
مودی کا یہ دباؤ پوتن کو شاید جنگ سے دستبردار نہ کر سکے، لیکن اس نے ماسکو کو یہ پیغام ضرور پہنچا دیا ہے کہ بھارت کی حمایت غیر مشروط نہیں ہے۔ نئی دہلی اب اپنے مفادات اور عالمی امن کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آخر میں، یہ ملاقات کسی فوری جنگ بندی کا سبب بنتی نظر نہیں آتی۔ تاہم، مودی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پوتن کے دوست ضرور ہیں، مگر ان کے ہر اقدام کے حامی نہیں۔ اب گیند پوتن کے کورٹ میں ہے؛ وہ بھارت جیسے بڑے شراکت دار کی بات کو اہمیت دیتے ہیں یا اپنی جنگی ضد پر قائم رہتے ہیں، اس کا فیصلہ آنے والے چند ماہ کر دیں گے۔
