بغداد — عراق کے مختلف حراستی مراکز میں 50 سے زائد پاکستانی نوجوان قید ہیں، جنہیں انسانی سمگلروں نے زیارت کے نام پر عراق پہنچا کر لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان یورپ جانے کے خواب لے کر گھروں سے نکلے تھے، لیکن اب وہ بغداد کی جیلوں میں تشدد اور بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
سمگلروں نے ان نوجوانوں سے فی کس 15 لاکھ روپے سے زائد رقم بٹوری تھی۔ وعدہ یورپی ملکوں میں روزگار کا تھا، لیکن حقیقت عراق کی تاریک کوٹھڑیاں ثابت ہوئیں۔ یہ نوجوان جب عراق پہنچے تو سمگلروں نے ان کے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات چھین لیں اور انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا، جہاں سے وہ عراقی حکام کی گرفت میں آ گئے۔
گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک متاثرہ نوجوان کے بھائی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ جیل کے محافظ انہیں لوہے کی سلاخوں سے مارتے ہیں۔ میرے بھائی نے آخری بار فون کیا تو اس کی آواز کانپ رہی تھی، وہ صرف مدد کے لیے پکار رہا تھا۔”
عراقی حکام کا موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں غیر قانونی قیام اور ویزے کی مدت ختم ہونے پر کی گئی ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان ایک منظم نیٹ ورک کا شکار ہوئے ہیں جو زیارت کے ویزوں کو انسانی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کربلا اور نجف میں ہونے والے حالیہ چھاپوں کے بعد یہ نوجوان بے یارومددگار جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں، جبکہ اصل سمگلر روپوش ہو چکے ہیں۔
اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گجرات اور منڈی بہاؤالدین میں انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا ہے، لیکن متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں۔ ان کے مطابق، حکام کی سستی کی وجہ سے ان کے پیارے وہاں قید تنہائی اور تشدد کا شکار ہیں۔
بغداد میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان نوجوانوں کی شناخت کا ہے۔ سمگلروں نے ان کے پاسپورٹ ضائع کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے واپسی کا عمل قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ عراقی حکومت سفری دستاویزات کے بغیر ڈیپورٹیشن (وطن واپسی) کی اجازت دینے سے انکاری ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف عراقی جیلوں کا تشدد ہے اور دوسری طرف وطن واپسی کا غیر یقینی مستقبل۔ سمگلر اب بھی ان خاندانوں سے مزید رقوم کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان کے پیاروں کو رہائی مل سکے، مگر اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ رہائی کے بعد یہ نوجوان محفوظ رہیں گے۔
فی الحال، ان نوجوانوں کی قسمت کا فیصلہ سفارتی سطح پر ہونے والی بات چیت سے جڑا ہے۔ جب تک پاکستان اور عراق کے درمیان قیدیوں کی واپسی کا کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوتا، تب تک یہ نوجوان ایک ایسے گڑھے میں قید رہیں گے جہاں سے نکلنے کا راستہ صرف سمگلروں کی جیبوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
