عالمی سطح پر موسم کے بدلتے تیور اور ‘لا نینا’ کی آمد نے طویل خشک سالی کی زد میں رہنے والے خطوں کے لیے امید کی کرن تو پیدا کر دی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی قلت کا خاتمہ محض بارشوں سے ممکن نہیں۔ زمین کی تہوں میں چھپی خشکی اتنی گہری ہے کہ اسے بھرنے میں مہینوں نہیں، برسوں درکار ہیں۔
زرعی علاقوں میں کسانوں کے لیے صورتحال بدستور چیلنجنگ ہے۔ خشک زمین کی اوپری سطح سخت ہو چکی ہے، جس کے باعث بارش کا پانی جذب ہونے کے بجائے بہہ جاتا ہے، جو اکثر سیلابی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ نمی زمین کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح (واٹر ٹیبل) میں بہتری کی رفتار انتہائی سست ہے۔
ماہرِ آبیات ڈاکٹر ایلینا وینس کہتی ہیں، "ہم پیٹرن بدلتے دیکھ رہے ہیں، لیکن پانی کے ذخائر کو پہنچنے والا نقصان بہت گہرا ہے۔ ایک موسم کی بارش کا مطلب یہ نہیں کہ خشک سالی ختم ہو گئی؛ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم نے مزید گڑھا کھودنا بند کر دیا ہے۔”
صرف بارش کافی نہیں، بلکہ مسئلہ بنیادی انفراسٹرکچر کا بھی ہے۔ دنیا بھر میں پانی کے ذخائر اب بھی اپنی تاریخی اوسط سے کافی نیچے ہیں۔ کئی ممالک میں ڈیموں کی سطح میں معمولی اضافہ تو ہوا ہے، لیکن گزشتہ دو برسوں کی شدید قلت نے جو خلا پیدا کیا ہے، وہ ابھی تک پر نہیں ہو سکا۔ حکومتی سطح پر اب توجہ ہنگامی امداد سے ہٹ کر طویل المدتی حکمت عملیوں پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
اب بحث اس پر نہیں کہ ‘بارش کب ہوگی’، بلکہ اس پر ہے کہ پانی کو محفوظ کیسے کیا جائے۔ کیلیفورنیا سے لے کر جنوبی یورپ اور ایشیا کے خشک علاقوں تک، اب توجہ سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے اور پانی کی ری سائیکلنگ پر ہے۔ کسان بھی اب روایتی فصلوں کے بجائے ایسی اقسام کاشت کر رہے ہیں جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں۔
خشک سالی کا زور ٹوٹ رہا ہے، مگر یہ بحران ہمیں ایک تلخ حقیقت یاد دلا گیا ہے: پانی اب ایک محدود اور قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔ بارشیں شروع ہو چکی ہیں، لیکن زمین اور معیشت کو بحال ہونے میں ابھی لمبا وقت لگے گا۔ آنے والا موسم کتنا سازگار ہوگا، یہ صرف بارشوں پر نہیں، بلکہ ہمارے پانی کے محتاط استعمال پر منحصر ہے۔
