برطانیہ نے 1884 کے بعد سے اب تک کا گرم ترین موسم گرما ریکارڈ کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، شدید گرمی اور خشک سالی کی طویل لہر نے درجہ حرارت کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جس نے 2018 اور 2022 کی شدید گرمی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ملک کے بدلتے ہوئے موسمیاتی رجحان کی ایک تلخ حقیقت ہیں۔ برطانوی عوام اگرچہ موسم کی غیر یقینی صورتحال کے عادی ہیں، لیکن اس سال کی مسلسل گرمی اور بارشوں کی شدید کمی نے نہ صرف قومی بجلی کے گرڈ، بلکہ زرعی پیداوار اور ہنگامی طبی خدمات پر بھی ناقابلِ تلافی دباؤ ڈالا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر ماہرِ موسمیات نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "اب ہم صرف درجہ حرارت میں وقتی اضافے نہیں دیکھ رہے۔ ہم ان لہروں کے دورانیے اور شدت میں ایک مستقل تبدیلی دیکھ رہے ہیں۔ ڈیٹا واضح ہے: برطانوی موسم گرما کا ‘معمول’ اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔”
اس گرمی کے ماحولیاتی اثرات فوری اور گہرے تھے۔ انگلینڈ کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں آبی ذخائر کئی دہائیوں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے، جس کے باعث مقامی سطح پر پانی کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔ کسانوں نے گندم اور جو کی فصلوں میں نمایاں کمی کی اطلاع دی ہے، جبکہ خشک مٹی نے آنے والے موسم سرما کی کاشت کاری کے عمل کو بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔
شدید گرمی نے قومی ڈھانچے کی صلاحیت کو بھی آزمایا۔ ریل نیٹ ورک کو رفتار کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پٹریاں شدید گرمی سے پھیل کر ٹیڑھی ہو رہی تھیں، جبکہ ہسپتالوں نے بزرگ اور کمزور طبقے میں ہیٹ اسٹروک کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کی تصدیق کی ہے۔
یہ ریکارڈ ساز گرمی، بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے نشاندہی کردہ عالمی حدت کے وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے۔ برطانیہ، جو تاریخی طور پر شدید گرمی سے محفوظ رہا ہے، اب خود کو ایک ایسی صورتحال میں پا رہا ہے جہاں اس کے گھر اور ٹرانسپورٹ کا نظام—جو ٹھنڈے اور مرطوب موسم کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا—موجودہ موسمی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جیسے جیسے موسم خزاں کی ٹھنڈک شروع ہو رہی ہے، حکومت پر موسمیاتی موافقت کی حکمت عملیوں کو تیز کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ کیا آب و ہوا بدل رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ برطانیہ کتنی تیزی سے خود کو ایک ایسی صدی کے لیے تیار کر سکتا ہے جس کا موسم اس کے ماضی سے یکسر مختلف ہے۔
