پاکستان کو پانی کے ایک ایسے بحران کا سامنا ہے جس کی شدت کا اندازہ شاید عام آدمی کو اب تک نہیں۔ ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ لاہور، کراچی اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں صورتحال یہ ہے کہ ٹیوب ویلز اب پانی کے بجائے ریت اگل رہے ہیں، اور جو پانی میسر ہے وہ بھی آلودگی اور بھاری دھاتوں سے پاک نہیں۔
یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ برسوں سے زرعی شعبے میں پانی کے بے دریغ استعمال اور شہری آبادی کی بے ہنگم توسیع نے زیرِ زمین ذخائر کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، ہم نے قدرت کے اس "انفینٹ بینک اکاؤنٹ” کو اس طرح خرچ کیا جیسے یہ کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہو۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ریچارج (پانی کا دوبارہ زمین میں جذب ہونا) کا عمل نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ نکالنے کی رفتار دگنی ہو چکی ہے۔
ایک سینئر ہائیڈرولوجسٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے برسوں تک زمین سے پانی نکالا، اب زمین ہمیں جواب دے رہی ہے۔ پنجاب کے زرعی علاقوں میں کسانوں کو اب پہلے سے دگنی گہرائی پر بورنگ کرنی پڑ رہی ہے، جس کا خرچہ چھوٹے زمیندار کی کمر توڑ رہا ہے۔”
اس صورتحال کا ایک اور تاریک پہلو ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کا زمین میں داخل ہونا ہے۔ جب زیرِ زمین میٹھے پانی کا دباؤ کم ہوتا ہے، تو سمندر کا کھارا پانی اس جگہ کو بھر دیتا ہے، جس سے زمین بنجر ہو رہی ہے۔ شہروں میں پینے کے پانی کی سطح گرنے سے پانی میں آرسینک اور دیگر مضر صحت اجزاء کی مقدار بڑھ رہی ہے، جو خاموش وبائی امراض کا پیش خیمہ ہے۔
حکومتی سطح پر ردِعمل اب بھی روایتی اور سست ہے۔ ٹیوب ویلز پر ٹیکس لگانے یا ریگولیشن کے اعلانات تو کئی بار ہوئے، لیکن سیاسی دباؤ اور زرعی لابی کی مزاحمت کے باعث کوئی ٹھوس قانون سازی نہ ہو سکی۔ غیر قانونی بورنگ کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، اور محکمہ آبپاشی کے پاس اسے روکنے کے لیے نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی سیاسی مرضی۔
موسمیاتی تبدیلیوں نے اس آگ پر تیل کا کام کیا ہے۔ مون سون کی بے قاعدگی اور ہیٹ ویوز نے پانی کی طلب میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ شہروں میں کنکریٹ کے جنگلات نے بارش کے پانی کو زمین میں جذب ہونے کا راستہ ہی نہیں چھوڑا۔
پاکستان کے پاس اب وقت کم ہے۔ اگر پانی کے بے جا استعمال کو فوری طور پر ریگولیٹ نہ کیا گیا تو آنے والے چند برسوں میں بڑے شہروں میں پینے کے پانی کا قحط ایک حقیقت بن جائے گا۔ قدرت کی جانب سے ملنے والی یہ مہلت اب ختم ہو رہی ہے۔
